فلپائن کے دارالحکومت منیلا سے تقریباً 80 کلومیٹر جنوب میں واقع ٹال آتش فشاں اچانک زور دار دھماکے سے پھٹ گیا جس کے دوران نادر و نایاب مظاہر قدرت دیکھنے کو ملے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فلپائن کے ادارہ برائے آتش فشانیات و زلزلہ پیما نے بتایا کہ آتش فشاں میں دوپہر 2 بج کر 34 منٹ پر فریاٹو میگمیٹک نوعیت کا دھماکہ ہوا جو تقریباً ساڑھے چار منٹ تک جاری رہا۔
ادارے کی جانب سے جاری کردہ ٹائم لیپس اور تھرمل کیمرے کی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ مرکزی دہانے میں موجود جھیل سے راکھ اور بھاپ کا 1200 میٹر بلند بڑا بادل تیزی سے نمودار ہوا جو فضا میں پھیل کر آہستہ آہستہ تحلیل ہوگیا۔
فلپائن کے ادارے برائے آتش فشاں و زلزلہ نے مزید بتایا کہ دھماکے کے بعد فوری طور پر کسی غیر معمولی زلزلے، زمین کی ساخت میں تبدیلی یا آتش فشاں کی سرگرمی میں خطرناک اضافے کے آثار سامنے نہیں آئے۔
اسی بنیاد پر الرٹ لیول 1 برقرار رکھا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ آتش فشاں میں کم درجے کی بے چینی موجود ہے تاہم کسی بھی وقت اچانک بھاپ سے ہونے والے دھماکے، معمولی راکھ باری، آتش فشانی زلزلے اور گیسوں کا اخراج ہوسکتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ ٹال آتش فشاں جزیرہ بدستور مستقل خطرناک علاقہ قرار دیا گیا ہے جہاں مستقل رہائش، سیاحت یا آتش فشاں کے دہانے کے قریب جانے پر پابندی برقرار ہے۔
آتش فشاں میں یہ حالیہ دھماکا گزشتہ چند ہفتوں سے جاری معمولی آتش فشانی سرگرمیوں کا تسلسل ہے۔ جون 2026 کے آغاز میں بھی ٹال آتش فشاں سے اسی نوعیت کے کئی مختصر دھماکے ریکارڈ کیے گئے تھے۔
فریاٹو میگمیٹک دھماکا کیا ہوتا ہے؟
ماہرین کے مطابق فریاٹو میگمیٹک دھماکا اس وقت ہوتا ہے جب زمین کے اندر موجود گرم میگما پانی یا زیرزمین جھیل سے ٹکراتا ہے جس سے بھاپ کا شدید دباؤ پیدا ہوتا ہے اور راکھ، بھاپ اور آتش فشانی مواد زور دار دھماکے کے ساتھ فضا میں خارج ہوتا ہے۔
ٹال آتش فشاں فلپائن کے انتہائی متحرک آتش فشاؤں میں شمار ہوتا ہے اور گنجان آباد علاقوں کے قریب واقع ہونے کے باعث اس کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے۔
تاحال کسی جانی نقصان، بڑے پیمانے پر راکھ باری یا فضائی پروازوں کی آمدورفت متاثر ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ حکام نے قریبی آبادیوں سے اپیل کی ہے کہ خطرناک علاقے کا رخ نہ کریں اور ہدایات پر مکمل عمل کریں۔

