کوئٹہ(این این آئی)جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ نے اپنے ایک بیان میں جمعیت علماء اسلام کے صوبائی ترجمان حاجی دلاور خان کاکڑ، ضلعی امیر مولانا نورالحق اور دیگر رہنماؤں و کارکنوں کے خلاف صوبائی وزیر کی ایما پر ڈپٹی کمشنر کی جانب سے 3-MPO کے تحت گرفتاری کے احکامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمعیت علماء اسلام کے خلاف جاری سیاسی انتقام، انتظامی جانبداری اور ریاستی اختیارات کے بے جا استعمال نے تمام جمہوری اور آئینی حدود کو پامال کر دیا ہے۔ ہمارے کارکنوں کے صبر، برداشت اور آئینی جدوجہد کو کمزوری تصور نہ کیا جائے، کیونکہ سیاسی آوازوں کو ریاستی طاقت سے دبانے کی ہر کوشش ناکام ہوگی۔انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر نے منصب سنبھالتے ہی ذاتی عناد اور سیاسی مخالفت کو بنیاد بنا کر جمعیت علماء اسلام کی قیادت اور کارکنوں کو نشانہ بنایا اور ضلعی انتظامیہ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ جب بھی جمعیت علماء اسلام نے عوامی وسائل کی بندربانٹ، کرپشن، کمیشن خوری اور انتظامی نااہلی کے خلاف مؤثر آواز بلند کی تو اس کا جواب جھوٹے مقدمات، بے بنیاد الزامات اور مختلف انتقامی ہتھکنڈوں کی صورت میں دیا گیا۔ اب جبکہ ان کے پاس کوئی قانونی یا اخلاقی جواز باقی نہیں رہا تو 3-MPO جیسے غیر معمولی قانون کو سیاسی مخالفین کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے، جو قانون کی روح اور جمہوری اقدار دونوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔مولانا آغا محمود شاہ نے خبردار کیا کہ اگر حاجی دلاور خان کاکڑ، مولانا نورالحق یا جمعیت علماء اسلام کے کسی بھی رہنما و کارکن کو 3-MPO کے تحت گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے تمام سیاسی، قانونی اور عوامی نتائج کی ذمہ داری صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ پر ہوگی۔ جمعیت علماء اسلام ایسے ہتھکنڈوں سے مرعوب ہونے والی جماعت نہیں بلکہ ہر آئینی، قانونی، سیاسی اور جمہوری فورم پر بھرپور انداز میں اپنا مقدمہ لڑے گی۔انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کا منصب کسی وزیر یا سیاسی شخصیت کی خواہشات کی تکمیل کے لیے نہیں بلکہ قانون کی بالادستی، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کے لیے ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے انتظامی اختیارات کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرنے کا تاثر پیدا کیا جا رہا ہے، جو نہ صرف سرکاری منصب کے تقاضوں بلکہ ایک ذمہ دار افسر کے حلف کے بھی منافی ہے۔انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ جمعیت علماء اسلام کے خلاف جاری سیاسی انتقام، انتظامی جانبداری اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا فوری نوٹس لے کر انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں، بصورت دیگر پیدا ہونے والی ہر سیاسی اور عوامی صورتحال کی ذمہ داری حکومت بلوچستان پر عائد ہوگی۔

