تحریر; محمد صدیق کھیتران
مرکزی سیکریٹری ریسرچ اینڈ ایڈوکیسی
نیشنل پارٹی
آجکل دنیا گلوبل خیمے کی مانند ہوچکی ہے۔جس کے اندر تمام سماج ایک دوسرے کو دیکھ کر آگے بڑھنے کی جستجو کر تے ہیں۔اس خیمے میں مناسب حصے داری ان کے پاس آتی ہے۔جن کو نئے حالات میں غلبے اور مفادات کی جنگ جیتنے کا وسیع تر علم اور ٹیکنالوجی پر غلبہ حاصل ہو۔اب سیاست ، محدود فیس بک کی معلومات، موروثی غلبہ اور جزباتی نعرے بازی کا موضوع نہیں رہا ہے۔اسلیئے انتشار اور مبہم تصورات کی سیاست سے سماج کا دور رہنا ہی دور حاضر کا تقاضا ہے۔ماضی کی روئیدادیں یا بنیاد پرستی کوئی علمی یا دینی فلسفہ نہیں ہے۔بلکہ فکری جمود کا نام ہے۔جو دراصل ماضی میں بچھڑ جانے والے مجہول اور اجتہاد سے عاری سکوت کی کیفیت کا استعارہ بن گیا ہے۔اس سے انسانوں کا جم غفیر بلکہ ہجوم ماضی میں رہنے لگتا ہے۔جہاں سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مارتا ہجوم زہنی طور پر غیر متحرک قوت بن کے رہ جاتا ہے۔لہزا پسماندگی اور شکستگی و پژماندگی پورے سماج کا مقدر بن جاتی ہے۔ریاست اور بنیاد پرستوں کا فکری اور عملی اتحاد، بڑی مہارت اور منصوبہ بندی سے معاشی مسائل کو پس پشت ڈال کر لوگوں کے ازہان کو مسلکی اور نظریاتی تضادات سے بھرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔کبھی فارورڈ ڈیفنس ، کبھی مقدس ڈیفنس اور کبھی قلبی طہارت پر زور دیا جاتا ہے۔اکثریت ریفارمر پیٹ بھرنے کی بجائے روح کی بالیدگی کو زندگی کا بنیادی مسلہ گردانتے ہیں۔معاشی کساد بازاری کو بنیاد پرستی یا پھر احیاء عقیدے کیلئے ووٹ حاصل کرنے کا وسیلہ بنایا جاتا ہے۔جب اسمبلیوں میں ایسے لوگ پہنچ جاتے ہیں تو مجبور ہوکر بیزاری کا اظہار کرتے ہیں کہ جدید زبان اور معیشت کے قوانین ان کی سمجھ میں نہیں آرہے ہیں ۔اس لیئے ان کو علاقائی زبان میں سمجھایا جائے۔حالانکہ عہد جدید کے نئے اور گھمبیر مسائل کا حل نئ سوچ اور نئے زہن کے ذریعے سے ہی تلاش کیا جاسکتا ہے۔اس لیئے ایران سے لیکر عربستان،بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا، پاکستان ( نوجوانوں کا 2024 میں پی ٹی آئی کو ووٹ دینا)کشمیر، گلگت بلتستان میں عوامی ابھار، ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کی پزیرائی اور منظور پشتیں یہ سارے نئ جنریشن زی کے بدلتے مدوجزر ہیں۔
بنیاد پرستوں کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ وہ نئے نظریات مثلا” جمہوریت، انسانی حقوق، حقوق نسواں، وفاقیت، دستوری تقاضے، عوام کی بزریعہ ووٹ حاکمیت ، انفارمیشن ٹیکنالوجی خصوصا” مصنوعی زہانت ،بائیو ٹیکنالوجی کی وسعت سے جڑے مسائل ، ماحولیاتی مسائل اور فلاحی ریاست کو اپنے نظریات سے متصادم سمجھتے ہیں وہ آج کے معروض کو ہزاروں سال پرانے دماغ سے قابو کرنے کی کوششیں کرنے میں مگن رہتے ہیں۔جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرہ جمود کا اسیر بنتا چلا جاتا ہے۔

