سرکاری ملازم کی ترقی کیلئے کنٹریکٹ سروس کو ریگولر سروس میں شمار نہیں کیا جاسکتا،سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ سرکاری ملازم کی ترقی کے لیے کنٹریکٹ سروس کو ریگولر سروس میں شمار نہیں کیا جاسکتا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ سروس ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف درخواست گزار محمد سلیم شیخ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ جس پر 16صفحات پر مشتمل فیصلہ سامنے آیا ہے جسے جسٹس محمد علی مظہر نے تحریر کیا ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کنٹریکٹ سروس کو سرکاری ملازم کی تعریف میں شامل نہیں کیا جاسکتا، سرکاری ملازم کی ترقی کیلئے درکار مقررہ مدت ملازمت کے مقصد کے لیے کنٹریکٹ سروس کو ریگولر سروس کے ساتھ شمار نہیں کیا جاسکتا۔

ترقی کیلئے کنٹریکٹ سروس کو ریگولر سروس میں شمارکرنا قانون کی غلط تشریح ہے ،کنٹریکٹ سروس کو ریگولر سروس میں شمار کرنا کنٹریکٹ ملازمین کو ابتدا ہی سے سول سرونٹ کا درجہ دینے کے مترادف ہو جائے گا۔

ترقی کیلئے کنٹریکٹ سروس کو ریگولر سروس میں شمار کرنے سے وفاقی اور صوبائی دونوں سول سرونٹس ایکٹس میں سول سرونٹ کی تعریف سے خارج کرنے والی شق بے اثرہو جائے گی ،اصطلاح “سرکاری ملازمت کے حقیقی معنی یا مفہوم کی تشریح سول سرونٹس ایکٹس کے دائرہ کار سے باہر نہیں کی جا سکتی۔

سندھ سول سرونٹس رولز 1975 کا رول 10 واضح ہے کہ سول سرونٹ کی سنیارٹی کا شمار اس کے ریگولر تقرر کی تاریخ سے کیا جائے گا،سندھ سول سرونٹس رولز کے تحت کسی بھی تقرر کو ماضی بعید سے ریگولر نہیں کیا جاسکتا۔

واضح رہے کہ درخواست گذار واپڈا ملازم نے استدعا کی تھی کہ ترقی کے لیے اس کی کنٹریکٹ سروس کو بھی شمار کیا جائے۔ سروس ٹربیونل نے ترقی کیلئے کنٹریکٹ سروس کو شمار کرنے کی درخواست خارج کی تھی۔ سپریم کورٹ نے سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کردی۔

facebook

اپنا تبصرہ بھیجیں