2022ء سے تاحال بیرونی قرض میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، گورنر اسٹیٹ بینک

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ مالی سال 2027ء میں پاکستان کو بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، مالی سال 2022ء سے تاحال بیرونی قرض نہیں بڑھا، مالی سال 26-2025ء کے 11 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سرپلس ہے، بارہویں مہینے کے اعداد جمع ہورہے ہیں، کرنٹ اکاؤنٹ کھاتہ صفر سے ایک فیصد رہے گا۔

جمعہ کو مرکزی بینک میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے بتایا کہ رواں مالی سال پانچ ارب ڈالر سے زائد کی بیرونی ادائیگیاں کرنے کے باوجود ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں جب کہ 5 ارب ڈالر کے اپنے واجبات بھی کم کیے ہیں، 4 سال میں بیرونی قرض وہیں ہے جہاں تھا۔

انہوں نے کہا کہ 15 دن کی امپورٹ کے ریزرو آج ضرورت سے کئی 100 فیصد زائد ہیں، ہماری ریٹنگ ان وجوہات سے بہتر ہوگی۔ گزشتہ چار برس کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً 100 ارب ڈالر کی سطح پر برقرار ہے، جبکہ ان تمام معاشی اقدامات کے نتیجے میں توقع ہے کہ رواں سال پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ مزید بہتر ہوگی۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے رقوم کی ترسیل کو مزید آسان بنانے کے لیے نئی اسکیمیں متعارف کرائی جا رہی ہیں، موجودہ اسکیم میں تبدیلی کے بعد بیرونِ ملک سے رقم بھیجنے والے پاکستانیوں پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا، کیونکہ اس کے اخراجات بینک خود برداشت کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2026ء کے دوران بیرونِ ملک پاکستانیوں نے تقریباً 41.5 ارب ڈالر وطن بھیجے، جبکہ مالی سال 2027ء میں یہ ترسیلات بڑھ کر 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے تاہم ایکسپورٹس بڑھنے تک ترسیلات پر انحصار رہے گا۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ 2015ء سے 2022ء تک پاکستان کا بیرونی قرض اوسطاً سالانہ 6 ارب ڈالر کے حساب سے بڑھ رہا تھا، تاہم 2022ء میں یہ تقریباً 100 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچا، جہاں سے اب تک برقرار ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ صرف قرض لینے کی وجہ سے ہوا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے رواں برس زرمبادلہ کے ذخائر میں تقریباً 5 ارب ڈالر کا اضافہ بھی کیا اور اسی دوران 5 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی بھی کی۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ مرکزی بینک کو توقع ہے کہ رواں مالی سال برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا۔ بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر ملکی معیشت کے لیے لائف لائن کی حیثیت رکھتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں گزشتہ تین ماہ کے دوران نمایاں بہتری آئی ہے۔ پہلے اس پلیٹ فارم کے ذریعے ماہانہ اوسطاً 200 ملین ڈالر موصول ہوتے تھے، جو بڑھ کر 300 ملین ڈالر ماہانہ سے تجاوز کر گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں