جنید ریاض:ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز کو اپنی اپنی تحصیلوں میں دفاتر منتقل کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، تاہم پانچوں تحصیلوں میں مستقل سرکاری دفاتر دستیاب نہ ہونے کے باعث انتظامی دفاتر مختلف سرکاری سکولوں میں قائم کر دیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سکولوں میں انتظامی دفاتر قائم ہونے سے سکول سربراہان پر بجلی، پانی اور دیگر انتظامی اخراجات کا اضافی بوجھ پڑ گیا ہے۔ دوسری جانب دفاتر میں ڈپٹی ڈی ای اوز کی عدم موجودگی کے باعث اساتذہ اور سائلین کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق متعدد کلرکس نے دفاتر گھروں سے دور منتقل ہونے پر اپنے تبادلوں کی درخواستیں بھی جمع کرا دی ہیں۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی ایجوکیشن دفاتر سے ڈپٹی ڈی ای اوز کے دفاتر ختم کر کے انہیں دوسری جگہ منتقل کرنے کا تجربہ کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔
پنجاب ٹیچرز یونین کے جنرل سیکرٹری رانا لیاقت علی نے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامی سہولت اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ڈپٹی ڈی ای اوز کے دفاتر دوبارہ سی ای او ایجوکیشن آفس میں منتقل کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سکولوں میں قائم انتظامی دفاتر میں افسران اکثر اپنی ڈیوٹی سے غیر حاضر رہتے ہیں، جس سے تعلیمی امور اور عوامی خدمات متاثر ہو رہی ہیں۔

