کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے صوبے میں وسیع پیمانے پر غیر رسمی تعلیم کے نفاذ کا فیصلہ کر لیا۔غیر رسمی تعلیم کے نفاذ کا فیصلہ چیف سیکریٹری کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا۔
مختلف وجوہات کی وجہ سے رسمی تعلیم سے محروم 18لاکھ بچوں کو دوبارہ تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے پر 5 سال کے دوران عملدرآمد کیا جائے گا، جبکہ رواں سال کے لیے 8ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔چیف سیکریٹری کے مطابق غیر رسمی تعلیم کا منصوبہ محکمہ سماجی بہبود کی زیرِ نگرانی چلایا جائے گا۔چیف سیکریٹری نے بتایا کہ منصوبے میں 9سے 16سال کی عمر کے بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

