کراچی: وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی (ایف یو یو اے ایس ٹی) کے آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (اورک) اور شعبہ نفسیات نے پاک انٹرنیشنل ہسپتال (پی آئی ایچ) کے ساتھ ذہنی صحت، مشترکہ تحقیق، کلینیکل تربیت، طلبہ کی انٹرن شپ، پیشہ ورانہ تربیتی پروگرامز اور کمیونٹی کی سطح پر خدمات کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کر دیے۔
تقریب میں ڈائریکٹر اورک ڈاکٹر حنا مدثر، ڈین و انچارج عبدالحق کیمپس ڈاکٹر شاہد اقبال، چیئرپرسن شعبہ نفسیات ڈاکٹر عطیہ خاتون، ریسرچ مینیجر اورک اور شعبہ نفسیات کی فیکلٹی ممبر ڈاکٹر شیبہ فرحان نے شرکت کی، جبکہ پاک انٹرنیشنل ہسپتال کی جانب سے تمغہ امتیاز یافتہ پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال آفریدی، میڈیکل ڈائریکٹر، جنرل منیجر ایڈمنسٹریشن راشد خان جدون اور روزینہ دربوالا نے ادارے کی نمائندگی کی۔
اس موقع پر بتایا گیا کہ مفاہمتی یادداشت کا بنیادی مقصد جامعہ اور شعبہ صحت کے درمیان مؤثر اشتراک کو فروغ دینا، ذہنی صحت سے متعلق جدید تحقیقی سرگرمیوں کو وسعت دینا، طلبہ کو عملی اور کلینیکل تجربات فراہم کرنا اور معاشرے میں ذہنی صحت کے حوالے سے آگاہی میں اضافہ کرنا ہے۔معاہدے کے تحت دونوں ادارے مشترکہ تحقیقی منصوبوں، کلینیکل تربیت، طلبہ کی انٹرن شپ، پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں، سیمینارز، ورکشاپس اور کمیونٹی کی سطح پر ذہنی صحت کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات کریں گے۔
اس اشتراک کے ذریعے طلبہ کو جدید طبی ماحول میں عملی تربیت حاصل ہوگی جبکہ اساتذہ اور ماہرین کو تحقیق اور پیشہ ورانہ تبادل خیال کے مزید مواقع میسر آئیں گے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ذہنی صحت اب صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان سمیت پوری دنیا میں صحتِ عامہ، تعلیم، معیشت اور سماجی استحکام سے جڑا ایک اہم چیلنج بن چکی ہے۔
غربت، بے روزگاری، مہنگائی، خاندانی اور سماجی دباؤ، تعلیمی مسائل، تنہائی، تشدد اور قدرتی و انسانی بحران ذہنی دباؤ، اضطراب اور ڈپریشن میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ہر سات میں سے ایک شخص کسی نہ کسی ذہنی عارضے کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے، جبکہ پاکستان میں بھی مختلف تحقیقی مطالعات ذہنی دباؤ، اضطراب اور ڈپریشن کی تشویشناک شرح کی نشاندہی کرتے ہیں۔
مقررین کے مطابق ذہنی صحت کے مسائل کے مؤثر حل کے لیے جامعات، طبی اداروں اور تحقیقی مراکز کے درمیان مضبوط تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ سائنسی بنیادوں پر تحقیق، بروقت تشخیص، مؤثر علاج اور عوامی آگاہی کو فروغ دیا جا سکے۔تقریب کے اختتام پر مفاہمتی یادداشت کا باضابطہ تبادلہ کیا گیا۔ دونوں اداروں کے نمائندگان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ شراکت داری معیاری تحقیق، جدید کلینیکل تربیت، طلبہ کی پیشہ ورانہ استعداد میں اضافے اور پاکستان میں ذہنی صحت کی معیاری خدمات کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔

