’نہ نواز شریف لڑائی کے موڈ میں ہیں، نہ شہباز شریف اور فیلڈ مارشل میں کوئی دڑار ہے‘

اسلام آباد : سینئر صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان، موجودہ سیاسی صورتحال، حکومت اور نظام سے متعلق اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ موجودہ حالات کے حوالے سے مختلف دعوے کیے جا رہے ہیں، تاہم حقیقت اس سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پیغام میں انصار عباسی نے کہا کہ نہ نواز شریف لڑائی کے موڈ میں ہیں، نہ شہباز شریف اور فیلڈ مارشل میں کوئی دراڑ ہے، محسن نقوی جذبات میں آ کر کچھ زیادہ ہی بول گئے، اب کہا جا رہا ہے 6 مہینے کی ڈیڈ لائن دے دی گئی ہے، پوچھا تو جواب ملا آپ سے یہ بات سن رہے ہیں، کیا سنجیدہ معاملات پر ایسے ڈیڈ لائن دی جاتی ہیں؟۔

اس کے علاوہ اپنے کالم میں انہوں نے لکھا کہ اگر واقعی موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے، اگر یہ کارکردگی دکھانے سے قاصر ہے اور اگر اس کے اندر رہتے ہوئے اصلاح ممکن نہیں، تو سب سے پہلا سوال خود وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے بنتا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا محسن نقوی اس کابینہ کا حصہ رہیں گے؟ کیا وہ بطور وزیر داخلہ اسی نظام کے اندر اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے؟ کیا وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی سربراہی بھی جاری رکھیں گے، یا پھر ان کے بیان کو اپنے ہی نظام کے خلاف عدم اعتماد کے اظہار کے طور پر دیکھا جائے؟ انصار عباسی کہتے ہیں کہ محسن نقوی اس نظام میں محض ایک وزیر نہیں بلکہ بااثر شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، وہ وزیر داخلہ بھی ہیں، سینیٹر بھی، پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں، جبکہ خارجہ امور میں بھی ان کی سرگرمیاں نمایاں نظر آتی ہیں، ایسے میں اگر وہ خود یہ کہیں کہ نظام ناکام ہو چکا ہے تو پھر سوال صرف نظام پر نہیں بلکہ ان کے اپنے کردار پر بھی اٹھتا ہے۔

صحافی نے مزید کہا کہ اگر محسن نقوی واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ ڈھانچہ اصلاح سے محروم ہو چکا ہے تو پھر ان کے سامنے دو ہی راستے ہیں، یا تو وہ اسی نظام کے اندر رہتے ہوئے واضح اصلاحاتی ایجنڈا پیش کریں اور اپنی کارکردگی کی بنیاد پر اس کی قیادت کریں، یا پھر اخلاقی طور پر یہ واضح کریں کہ جس نظام پر وہ عوامی سطح پر عدم اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں، اس کا حصہ کیوں ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اصل سوال نظام پر نہیں بلکہ اس بیان کے منطقی نتائج پر ہے، اگر نظام واقعی ناکام ہے تو اس کی ذمہ داری صرف دوسروں پر نہیں ڈالی جا سکتی بلکہ اس میں وہ تمام افراد بھی شامل ہیں جو اس کے اہم ستون ہیں، اگر محسن نقوی خود انہی ستونوں میں سے ایک ہیں تو عوام کو اس سوال کا جواب ضرور ملنا چاہیے کہ وہ نظام بدلنا چاہتے ہیں یا صرف اس پر تنقید کرنا، امید ہے نقوی صاحب ناراض نہیں ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں