کوئٹہ (رپورٹر) کئی عرصے کے بعد تربت میں ایک مرتبہ پھر سیاسی جماعتوں نے آل پارٹیز کیچ کے پلیٹ فارم پر نیشنل پارٹی کی سرپرستی میں بھرپور سیاسی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔
گزشتہ کئی برسوں سے جاری غیر سیاسی دھند، گزشتہ انتخابات میں اصل عوامی نمائندوں کی مبینہ جبری شکست، فارم 47 کے سہارے غیر سیاسی اور من پسند عناصر کو اقتدار کے منصب تک پہنچانے کے تاثر، چوری، ڈکیتی، اغوا برائے تاوان اور دیگر سماجی جرائم سمیت بارڈر بندش جیسے پیچیدہ مسائل نے عوام کو ایسے مسائل میں الجھائے رکھا کہ پورا معاشرہ ایک طرح سے غیر سیاسی بنا دیا گیا۔
اس سے قبل جب آل پارٹیز کیچ کی قیادت مسلسل دو برس تک پیپلز پارٹی کے سپرد رہی تو سیاسی سرگرمیاں ماند پڑتی گئیں اور بالآخر آل پارٹیز کیچ عملاً غیر فعال ہوگئی۔ تاہم جونہی اس کی قیادت نیشنل پارٹی کے حوالے کی گئی ایک سیاسی عمل کی پیداوار نیشنل پارٹی کی سربراہی میں آل پارٹیز کیچ ایک مرتبہ پھر سیاسی سرگرمیوں کی شاہراہ پر واپس آتی دکھائی دے رہی ہے۔
20 ستمبر کے احتجاج سے قبل بعض سیاسی جماعتوں، فارم 47 کے ذریعے کامیاب ہونے والے عناصر، خود ساختہ قوم پرستوں اور بارڈر کے نام پر قائم مبینہ ٹوکن مافیا کو متحرک کرکے آل پارٹیز کیچ، بالخصوص نیشنل پارٹی کے خلاف پروپیگنڈا مہم چلانے خاص طور پر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ پر سیاسی تنقید کے نام پر زاتی تنقید کی کوشش کی گئی۔ اس کے باوجود تمام تر سرکاری رکاوٹوں اور دباؤ کے درمیان آج جب آل پارٹیز کیچ ایک بھرپور سیاسی طاقت کے ساتھ سڑکوں پر نکلی ہے تو یہ منظر اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ سیاسی عمل کو زیادہ دیر تک خاموش نہیں رکھا جا سکتا۔
جن عناصر نے نیشنل پارٹی اور اس کی قیادت پر تنقید کی انہیں مبارک ہو کہ آج نیشنل پارٹی ایک مرتبہ پھر سیاسی میدان میں اپنی موجودگی ثابت کرنے میں کامیاب دکھائی دیتی ہے جبکہ تمام غیر سیاسی و زاتی تنقید کے باوجود ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ بھی اس سیاسی عمل کے حوالے سے اپنی جماعت کی قیادت اور کردار کے باعث نمایاں حیثیت میں سامنے آئے ہیں۔

