سیوی(نامہ نگار )بلوچستان میڈیا فورم نے صحافیوں کے تحفظ آزادیٔ صحافت معاشی و سماجی مسائل کے حل اور میڈیا سے وابستہ افراد کی فلاح و بہبود کے لیے 10 نکاتی مطالبات پیش کرتے ہوئے حکومت سے فوری عملی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے بلوچستان میڈیا فورم کی جانب سے جاری کردہ مطالبات میں کہا گیا ہے کہ میڈیا پرسنز کے تحفظ اور آزادیٔ صحافت کا دفاع یقینی بنایا جائے جبکہ بلوچستان کے لوکل پریس کلبوں کی بقاء اور فعالیت کے لیے مؤثر حکومتی سرپرستی اور مالی معاونت فراہم کی جائے فورم نے مطالبہ کیا کہ شعراء، ادیبوں اور مصنفین کی سرکاری سطح پر سرپرستی کی جائے، جبکہ صحافیوں کے بچوں کو حکومتی سطح پر اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ اسی طرح بلوچستان بھر میں کام کرنے والے نامہ نگاروں کے لیے سرکاری ماہانہ وظیفہ مقرر کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے بلوچستان میڈیا فورم کے مطالبات میں دیہی علاقوں کے ٹی وی چینلز سے وابستہ کارکنوں کو مستقل کرنے کی ضمانت، صحافیوں کے بچوں کے لیے ہر ضلع میں سرکاری ملازمتوں کا کوٹہ مقرر کرنے اور بلوچستان بھر میں نامہ نگاروں، چینل رپورٹرز اور صحافیوں کے خلاف قائم مقدمات کے خاتمے کا مطالبہ بھی شامل ہے فورم نے مزید مطالبہ کیا کہ صحافیوں کے سرکاری فلاح و بہبود فنڈ کی کمیٹی میں بلوچستان میڈیا فورم کو نمائندگی دی جائے تاکہ صحافی برادری کے مسائل اور فلاحی معاملات میں مؤثر آواز شامل ہو سکے دسویں مطالبے میں میڈیا پرسنز کے لیے بلوچستان کے ہر ضلع میں سرکاری رہائشی کالونیوں کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے بلوچستان میڈیا فورم کے مرکزی شعبۂ نشر و اشاعت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ مطالبات صحافی برادری کے بنیادی حقوق، تحفظ، معاشی استحکام اور فلاح و بہبود سے متعلق ہیں۔ فورم نے مطالبات کی منظوری اور عملی اقدامات کے لیے حکومت سے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مطالبات کے حصول تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی

