بلوچستان کے معدنی وسائل صوبے کی معیشت اور روزگار کے مواقع کے لیے اہم حیثیت رکھتے ہیں،غلام دستگیر بادینی

کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے معدنیات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی غلام دستگیر بادینی کی زیر صدارت اسمبلی سیکرٹریٹ کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی رکن خیر جان بلوچ، زابد علی ریکی، صوبائی وزیر برائے معدنیات میر شعیب نوشیروانی، سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، ایڈیشنل سیکرٹری لاء سعید اقبال، ڈائریکٹر جنرل مائنز اینڈ منرلز عبداللہ شاہوانی، ڈپٹی ڈائریکٹر لاء احسان برکت، وسیم احمد اور محکمہ معدنیات کے مائن اونرز نے شرکت کی۔اجلاس میں بلوچستان مائنز ہیلتھ اینڈ سیفٹی بل 2026 پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مذکورہ بل کے حوالے سے اس سے قبل بھی دو اجلاس منعقد ہو چکے ہیں، جبکہ گزشتہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ بل کی مزید شقوں پر محکمہ قانون، مائن اونرز اور متعلقہ محکمے باہمی مشاورت سے غور کریں گے اور اپنی تجاویز کمیٹی کے سامنے پیش کریں گے۔اجلاس کے دوران اس امر پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ صوبے میں کان کنی کے شعبے میں صحت، حفاظت اور ریسکیو سے متعلق قانونی امور طویل عرصے سے مائنز ایکٹ 1923 کے تحت چلائے جا رہے ہیں، جبکہ جدید دور میں کان کنی کے طریقہ کار، مشینری، پیشہ ورانہ صحت و سلامتی، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور موثر نگرانی کے تقاضے تبدیل ہو چکے ہیں۔ اس تناظر میں ایک جامع اور جدید صوبائی قانون کی ضرورت پر زور دیا گیا۔کمیٹی نے بل کی مختلف شقوں، بالخصوص ناقابل ضمانت ایف آئی آر، دیت اور دیگر قانونی و انتظامی امور پر بھی غور کیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مائن اونرز اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز اپنی تجاویز محکمہ اور کمیٹی کو تحریری طور پر پیش کریں گے، جن کا جائزہ لینے کے بعد کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ ان تجاویز کو بل کا حصہ بنایا جائے یا نہیں۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ بلوچستان کے معدنی وسائل صوبے کی معیشت اور روزگار کے مواقع کے لیے اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ کمیٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کو فروغ دیا جائے گا اور تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے سرمایہ کاری کی ترغیب دی جائے گی۔کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ بل کی مختلف شقوں پر مزید مشاورت کے لیے ایک اور اجلاس منعقد کیا جائے گا، جس میں متعلقہ محکموں، مائن اونرز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد بلوچستان مائنز ہیلتھ اینڈ سیفٹی بل 2026 کو حتمی شکل دینے کے لیے پیش رفت کی جائے گی۔کمیٹی اراکین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ جدید اور جامع قانون سازی کے ذریعے کان کنی کے شعبے میں کارکنوں کے تحفظ، مؤثر نگرانی، محفوظ اور پائیدار کان کنی کے فروغ کے ساتھ ساتھ صوبے میں معدنی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال اور سرمایہ کاری کے مواقع کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں