قانونی تجارت کی راہ میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی، محمد جمیل ناصر خان

کوئٹہ(این این آئی)چیف کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ(آپریشنز)اسلام آباد محمد جمیل ناصر خان نے کہا ہے کہ قانونی تجارت کی راہ میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی، ضبط شدہ سامان کی نیلامی کا عمل تیز کیا جا رہا ہے جبکہ سنٹرل اسسمنٹ یونٹ میں بلوچستان کے کیسز کی جانچ پڑتال کے لیے روزانہ شام 5بجے سے رات 11بجے تک خصوصی وقت مختص کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ آٹھ ماہ میں کاروباری معاملات کو آٹومیٹڈ نظام پر منتقل کیا جائے گا تاکہ مال بردار گاڑیوں کی چیکنگ اور کلیئرنس کو تیز اور آسان بنایا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان کے عہدیداران اور ممبران کے ساتھ منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس سے قبل چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کے سینئر نائب صدر مرزا خان خلجی، نائب صدر جنگیان دشتی اور دیگر عہدیداران نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور انہیں بلوچستان کی کاروباری برادری کو درپیش مشکلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں کاروبار، بالخصوص درآمدات و برآمدات، مشکل صورت حال سے دوچار ہیں۔ مال بردار گاڑیوں کو جلائے جانے کے واقعات کے ساتھ ساتھ غیر ضروری چیک پوسٹوں اور بار بار چیکنگ کے باعث تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔چیمبر کے عہدیداران نے بتایا کہ مستونگ روڈ اور زیارت کراس کے مقامات پر محکمہ کسٹمز کی جانب سے ضبط کیا گیا اربوں روپے مالیت کا سامان اور گاڑیاں آتشزدگی کا شکار ہوئیں، تاہم متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یا نقصان کے ازالے کے لیے تاحال کوئی موثر اقدام نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی تین ہزار سے ساڑھے تین ہزار مال بردار گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں، جن کی کلیئرنس کا عمل تیز کرنے کے ساتھ ضبط شدہ سامان کی جلد نیلامی کے احکامات پر عمل درآمد ضروری ہے۔اس موقع پر چیف کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ (آپریشنز)محمد جمیل ناصر خان نے کہا کہ کسی بھی صورت قانونی تجارت پر قدغن نہیں لگنے دی جائے گی، کیونکہ قانونی تجارتی سرگرمیوں سے ملک اور صوبے کو ریونیو حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمگلنگ میں ملوث عناصر قانونی تجارت سے وابستہ افراد کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ جہاں اسمگلنگ کی سرگرمیاں ہوں گی، وہاں چیکنگ ضرور کی جائے گی، تاہم اسمگلنگ کی آڑ میں کسی کو بلاوجہ تنگ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے کہا کہ ضبط شدہ سامان کی نیلامی کے احکامات پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں اور اب اس عمل کو مزید تیز کیا جا رہا ہے۔ شہر کے اندر دو ویئر ہاسز قائم کرنے کا انتظام کیا جا رہا ہے، جنہیں ڈیڑھ ماہ کے اندر فعال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔محمد جمیل ناصر خان نے مزید بتایا کہ سنٹرل اسسمنٹ یونٹ میں بلوچستان کے کیسز کی خصوصی جانچ پڑتال روزانہ شام 5بجے سے رات 11بجے تک کی جائے گی۔ آئندہ آٹھ ماہ کے دوران کاروباری امور کو خودکار نظام پر منتقل کرنے کا منصوبہ ہے، جس سے مال بردار گاڑیوں کی چیکنگ اور کلیئرنس کا عمل تیز اور آسان ہوگا۔انہوں نے ویئر ہاسز میں سامان جلنے کے واقعات سے متعلق جاری انکوائریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد معاوضوں کی ادائیگی اور دیگر معاملات کے لیے فریم ورک پالیسی پر کام متوقع ہے۔ انہوں نے کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر متعلقہ امور پر چیمبر کی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں ترجیح دینے کی یقین دہانی بھی کرائی۔اجلاس کے اختتام پر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کی جانب سے مہمان کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں