کوئٹہ(این این آئی) آل بلوچستان گورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر میر عبدالسلام لانگو،چیئرمین ملک عبدالغفار مندوخیل،جنرل سیکرٹری ملک مجیب مہترزئی، وائس چیئرمین میر شکیل لہڑی، ڈپٹی جنرل سیکرٹری صلاح الدین بزئی،سیکرٹری اطلاعات سرور جان مندوخیل، سیکرٹری فنانس محمد ادریس جان لانگو، نائب صدر سراج خان کاکڑ،رابطہ سیکرٹری نورت میر بیروز ملازئی، آل بلوچستان رابطہ سیکرٹری سمیع اللہ کاکڑ، نائب صدر محمد انور ترین، سینئر نائب صدر حاجی محمد ابراہیم اچکزئی، آفس سیکرٹری میرابراررئیسانی، نائب صدر میر عدنان لہڑی، رابطہ سیکرٹری ساوتھ میر سلیم بنگلزئی اور نائب صدر صاحبزادہ بسم اللہ خان نے آل بلوچستان گورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کی کوششوں سے ٹھیکیدار برداری کو درپیش مسائل حل ہورہے ہیں ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کی کوششوں سے وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی، حکومت بلوچستان محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات نے بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (بی ایس ڈی آئی) کے تحت تمام منصوبوں اوراسکیموں کی خریداری کے لئے ای بڈنگ لازمی قراردیدی ہے جس کا آل بلوچستان گورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن خیر مقدم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس ڈی آئی (BSDI)کے زیراہتمام مختلف کاموں کیلئے ٹینڈرنگ کا عمل جاری تھا جس پر ٹھیکیدار برداری کو تحفظات تھے اور بی ایس ڈی آئی کے ٹھیکے ہوٹلوں میں بیٹھ کرمن پسند ٹھیکیداروں کو فروخت کئے جارہے تھے جس کے خلاف آل بلوچستان گورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن نے بھر پور آوازبلند کی اور متعلقہ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا جس پر حکومت بلوچستان نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو کے تحت تما م منصوبوں اوراسکیموں کیلئے ای بڈنگ لازمی قرار دیدی ہے جس سے ٹینڈر کا عمل شفاف بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ آل بلوچستان گورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی کا شکریہ ادا کرتی ہے جنہوں نے ایسوسی ایشن کی درخواست پر نوٹس لیتے ہوئے بی ایس ڈی آئی پروگرام کو کرپشن سے پاک کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے قبائلی علاقوں میں کام کرنے والے ٹھیکیداروں کو انکم ٹیکس سے استشنیٰ حاصل تھا لیکن حکومت نے ایسے تمام کاموں جو پہلے ٹیکس سے مستشنیٰ تھے جون 2026ء کے بعد فنانس ایکٹ میں ترمیم کرکے ٹیکس چھوٹ ختم کردی جس سے ٹھیکیداروں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کا اطلاق ان جاری کاموں پر بھی کیا جا رہا ہے جو جون 2026 سے پہلے کے ہیں جو کہ ٹھیکیدار برادری کے ساتھ سراسر ظلم ہے۔ایسوسی ایشن اس ظالمانہ اقدام کو بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں جو ٹھیکیدار اور فرمز،کمپنیاں کام کررہی ہیں جو اس فیصلے سے متاثر ہورہی ہیں وہ فوری طور پر آل بلوچستان گورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن سے رابطہ کرکے اپنے ورک آرڈ، پی ای سی، این ٹی این، قومی شاختی کارڈ، لیٹر ہیڈ بمعہ دستخط و اسٹم جمع کروائیں تاکہ حکومت کے اس فیصلے کو بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج کیا جاسکے۔

