اپوزیشن اراکین بلوچستان اسمبلی نے خیبر پختونخواء میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کے فیصلے کو مسترد کردیا

کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن اراکین نے خیبر پختونخواء میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے خیبر پختونخواء حکومت کو بحال کرنے کا مطالبہ کردیاجبکہ حکومتی اراکین نے کہا ہے کہ وفاق نے حالات کی بہتری کی کوشش کی تاہم خیبر پختونخواء حکومت کا رویہ درست نہیں تھا،ایمر جنسی آئینی اقدام ہے۔ پیر کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں قائد حزب اختلاف بلوچستان اسمبلی یونس عزیز زہری نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی سے لاکھ اختلافات ہیں،مگر یہ جمہوری طریقہ نہیں،ووٹ کی عزت کا دعوی کہاں گیا؟ پی ٹی آئی حکومت کوبحال کرکے جمہوری طریقے سے چلنے دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ کیا گارنٹی ہے کہ اس عمل سے کے پی میں امن آئے گا،جمہوری حکومت کا گلہ گھونٹنا جمہوریت کے لئے نیک شگون نہیں،جمہوری حکومت نے ڈکیٹیٹروں کی طرح کیا تو گلہ کس سے کریں، انہوں نے کہا کہ میں اپنی جماعت اور اپوزیشن کی طرف سے اس عمل کی مذمت کرتا ہوں ملک نازک دور سے گزر رہا ہے،اس عمل سے اور پیچھے چلے جائیں گے۔نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کے پی میں ایمرجنسی اورگورنر راج کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں آئین میں صرف 232 اور 234 کے آرٹیکلز نہیں،آرٹیکل ون بھی ہے،۔انہوں نے کہا کہ ہم خوش ہیں کہ یہ جمہوریت ہے، کے پی میں بدامنی تو افغان انقلاب سے شروع ہوئی کے پی میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگانا نیک شگون نہیں ہے، مجھے ڈر ہے کہ یہ سلسلہ یہاں نہیں رکے گا، میری اطلاع تھی کہ ایمرجنسی پہلے بلوچستان میں لگنے والی تھی پھر ملک میں بھی ایمرجنسی لگ سکتی ہے،کیونکہ عوام سے اختیارات چھین لئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مارشل لا،ایمرجنسی،گورنر راجوں نے عوام کو نان شبینہ کا محتاج بنادیاہے خیبر پختونخوا کی حکومت کو بحال کیا جائے۔ صوبائی وزیر میر ظہور بلیدی نے کہا کہ آج کے پی میں بے امنی ہے توکیا وفاقی حکومت آنکھیں بند کرکے بیٹھ جائیدہشت گردی کیخلاف ریاست کیساتھ کھڑانہ ہونیکاعمل ناقابل برداشت ہے،ایمرجنسی تو لگے گی،اگرچہ آپ کواحتجاج کا حق ہے،آپ ایوان میں احتجاج کریں،حالات کوسبوتاژنہ کریں۔مسلم لیگ (ن) کے پارلیما نی لیڈر صوبائی وزیر میر سلیم کھوسہ نے کہا کہ وفاق نے حالات کی بہتری کی بہت کوشش کی لیکن ان کارویہ ٹھیک نہیں تھا بلوچستان کی حکومت ریاست اور وفاق کے ساتھ کھڑی ہے کے پی میں 10 اضلاع نو گو ایریا بنے ہوئے ہیں ایمرجنسی اور گورنرراج کافیصلہ اچھا اقدام ہے،وفاق کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئین بنانیوالے اکابرین نیا آج کی صورتحال کومدنظر رکھ کر یہ آرٹیکل آئین میں ڈالے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے حالات کا موازنہ کیا جارہا ہے پورا پاکستان سن لے،کے پی اور بلوچستان کے حالات اور حکومت کا کوئی موازنہ نہیں کے پی کے میں لاء اینڈ آرڈر کی بنیاد پرنہیں،حکومتی کردارادا نہ کرنے پرایمرجنسی لگائی گئی۔انہوں نے کہا کہ کے پی میں سیکیورٹی کیلئے دئیے گئے فنڈ سے سوشل میڈیا ٹیم بنائی گئی دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے سیکیورٹی اداروں کو معاونت کی ضرورت ہوتی ہے قانون سازی اور بیانیے میں معاونت کی ضرورت ہوتی ہے،انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر بنتے ماحول میں وفاق پرحملہ آور ہونے کی باتیں کی جاتی ہیں، بلوچستان میں حکومت اس جنگ کو اون کرتی ہے،وہاں کے پی میں اون نہیں کیا جاتا،اس جماعت پرآج تک ایک پٹاخہ نہیں پھٹا،تمام جماعتوں میں لیڈر اور کارکن دہشتگردوں کے ہاتھوں شہید ہوئے،اس کا مطلب ہے یہ جماعت دہشتگردوں کے ساتھ ملے ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اللہ نہ کرے کوئی حملہ ہو،لیکن ان کے پاس کون سی جادو کی چھڑی ہے،گزشتہ رواز سوئی گیا تو دور کہیں دستی بم اور کریکر کے پٹاخے پھوڑے گئے، اگر بلوچستان حکومت اس لڑائی کو اپنا نہ سمجھے تو پھر بات ہے وفاق نے آئین کے تحت یہ اقدام اٹھایا ہے،غیرآئینی کام نہیں کیاہم اس عمل کی حمایت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو،بشیر بلور،میاں افتخارکے بیٹے کے قاتلوں کوواپس بلانیکی باتیں کون کررہا تھا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی اوریہاں بیٹھے اراکین دہشت گردی کیخلاف ہیں،سیکیورٹی فورسزکیساتھ کھڑے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں