خیبر پختونخوا، بلوچستان میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مربوط، فیصلہ کن اور مستقل حکمت عملی ضروری ہے،سینیٹر محمد عبدالقادر

کوئٹہ(این این آئی) چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مشترکہ، مربوط اور مستقل حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ انٹیلی جنس اداروں، پولیس، سکیورٹی فورسز اور سول انتظامیہ کے درمیان مؤثر رابطہ، سرحدی نگرانی، دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام اور انتہا پسندی کے اسباب کا تدارک اس حکمت عملی کے بنیادی ستون ہونے چاہئیں۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور قانون کی عمل داری یقینی بنانا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں آئین، بنیادی حقوق اور جمہوری اداروں کا احترام یقینی بنایا جائے، جبکہ سیاسی قیادت اور مقامی آبادی کو اعتماد میں لے کر امن کی کوششوں کو مضبوط کیا جائے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ سیاسی استحکام اور امن کے بغیر پائیدار معاشی ترقی ممکن نہیں۔ کاروباری اعتماد کی بحالی، سرمایہ کاری میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سکیورٹی اقدامات کے ساتھ متاثرہ علاقوں میں تعلیم، صحت، بنیادی سہولتوں اور ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جائے۔ خصوصاً نوجوانوں کو ہنرمندی، روزگار اور مثبت سرگرمیوں کے مواقع فراہم کیے جائیں۔انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں امن، سیاسی مفاہمت اور معاشی بحالی کو یکساں اہمیت دی جائے۔ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے تعاون سے دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کرے اور متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے ضروری وسائل کی بروقت فراہمی یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر سکیورٹی اقدامات، عوامی اعتماد، قانون کی حکمرانی اور منصفانہ ترقی ہی پاکستان کو پائیدار امن و استحکام کی جانب لے جا سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں