کوئٹہ(این این آئی)کوئٹہ میں گزشتہ روز گرینڈ الائنس کے احتجاج کی کوریج کے دوران سنو ٹی وی کے کیمرہ مین یاسین بلوچ پر تشدد میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے لیے درخواست تھانہ سول لائنز کوئٹہ میں جمع کردی گئی ہے۔ درخواست متعلقہ ایس ایچ او نے وصول کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ یاسین بلوچ کو پولیس اہلکاروں نے کوریج کے دوران کیمرہ چھیننے کی کوشش میں ناکامی پر شدید تشدد کا نشانہ بنایا جس سے وہ زخمی ہوئے اور سول ہسپتال کے شعبہ حادثات میں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔ ایف آئی آر کے اندراج کے لیے دی گئی درخواست میں پانچ پولیس اہلکاروں کی نشاندہی کی گئی ہے۔صدر بی یو جے خلیل احمد اور جنرل سیکرٹری، عبد الغنی کاکڑ نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے آئی جی پولیس بلوچستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ یاسین بلوچ پر تشدد میں ملوث اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کو یقینی بنا کر انہیں انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیاجائے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں صحافی پہلے ہی بے شمار خطرات، دباؤ اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں دورانِ ڈیوٹی صحافیوں پر پولیس تشدد نہ صرف آزادی صحافت پر حملہ ہے بلکہ ایک ناقابل قبول اور افسوسناک طرزِ عمل ہے۔بلوچستاں یونین آف جرنلسٹس نے صحافیوں پر پولیس تشدد، آزادی صحافت کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور دیگر امور سے نمٹنے کے لیے موثر حکمت عملی مرتب کرنے کا اعلان کیا ہے۔

