کوئٹہ (این این آئی)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اور نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ نے 11اکتوبر 2026کو پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ، گورنر راج اور 12اضلاع کو صوبائی قانون سازی و انتظامی دائرہ اختیار سے الگ کرنے کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے انہیں آئین پاکستان، وفاقی جمہوریت اور صوبائی خودمختاری کے منافی قرار دیا ہے۔دونوں جماعتوں کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ سابقہ فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام آئینی ترمیم کے ذریعے عمل میں آیا تھا، اس لیے اس کے تحت قائم انتظامی و قانونی نظام کو محض انتظامی احکامات کے ذریعے غیر مثر نہیں کیا جا سکتا۔ 12 اضلاع کے لیے الگ ایریا ڈیولپمنٹ سیکریٹریٹ کے قیام کے فیصلے پر وضاحت ضروری ہے تاکہ ان علاقوں کے آئینی حقوق اور قانونی تحفظات برقرار رہیں۔بیان میں کہا گیا کہ دونوں جماعتیں صوبائی حکومت کی ناقص حکمرانی اور عوامی مسائل کے حل میں ناکامی پر تنقید کرتی رہی ہیں، تاہم ان مسائل کا حل جمہوری اور آئینی طریقہ کار میں ہے، نہ کہ منتخب حکومت ختم کرنے یا عوام کے حقوق محدود کرنے میں۔ کسی حکومت کی ناکامی کی سزا پورے صوبے کے عوام کو دینا جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔دونوں جماعتوں نے پختونخوا میں دہشت گردی اور بدامنی کے خاتمے کے لیے ماضی کی سکیورٹی پالیسیوں پر نظرثانی، مثر حکمرانی اور خطے میں امن و استحکام کو ترجیح دینے والی افغان پالیسی اختیار کرنے پر زور دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ صوبے کے عوام کئی دہائیوں سے دہشت گردی، جانی نقصان، معاشی بدحالی اور نقل مکانی کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ معدنی وسائل، زمینوں اور قدرتی ذخائر پر مقامی آبادی کے حقوق کا تحفظ ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔مشترکہ بیان میں غیر معمولی انتظامی و سکیورٹی اختیارات کے استعمال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ریاستی اقدامات آئین، قانون، بنیادی انسانی حقوق اور عدالتی نگرانی کے تابع ہونے چاہئیں۔دونوں جماعتوں نے مطالبہ کیا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق اقدامات پر فوری نظرثانی کی جائے، آئین پاکستان کی بالادستی اور صوبائی خودمختاری یقینی بنائی جائے اور سابقہ فاٹا کے انضمام کے تحت حاصل آئینی حقوق اور قانونی تحفظات برقرار رکھے جائیں۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں، وکلا، سول سوسائٹی اور عوامی حلقوں سے اپیل کی کہ وہ پختونخوا کے عوام کے بنیادی حقوق اور وفاقی جمہوری نظام کے تحفظ کے لیے متحدہ جدوجہد کریں۔

