آمریت کی گود میں جنم لینے والی سیاسی جماعتیں بلوچستان کی تباہی کی ذمہ دار ہیں،سینیٹرمولاناعبدالواسع

کوئٹہ (این این آئی) جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع،صوبائی سیکرٹری جنرل آغا محمود شاہ نے کہا ہے کہ آمریت کی گود میں جنم لینے والی سیاسی جماعتیں بلوچستان کی تباہی کی ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ جمہوری اصولوں اور عوامی مینڈیٹ کی پاسداری کے بجائے اپنے شخصی مفادات کو ترجیح دی ہے، جمہوریت کا نام لینے والی قوتوں نے جب بھی اپنے اقتدار کو خطرہ محسوس کیا تو حقیقی عوامی قوت جمعیت علماء اسلام کا راستہ روکنے کے لیے غیر آئینی اقدامات اور سودا بازی سے گریز نہیں کیا، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ عوامی شعور اور نظریاتی سیاست کو انتظامی فیصلوں اور اقتدار کی سازشوں کے ذریعے دبایا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں گورنر راج کے حوالے سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے طرزِ سیاست میں کوئی بنیادی فرق دکھائی نہیں دیتا، دونوں جماعتیں جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے دعوے کرتی ہیں، لیکن جب سیاسی مفادات کا معاملہ سامنے آتا ہے تو ان کے عملی اقدامات پر سوالات اٹھتے ہیں۔ بلوچستان جیسے حساس اور پسماندگی کے شکار صوبے میں گورنر راج یا کسی بھی غیر معمولی آئینی اقدام کی بات کرنے کے بجائے عوامی مسائل کے حل، منتخب نمائندوں کے مینڈیٹ کے احترام اور جمہوری اداروں کے استحکام کو ترجیح دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کی سیاست کا محور اقتدار کا حصول نہیں بلکہ عوام کی خدمت، آئین کی بالادستی، پارلیمانی جمہوریت کا تحفظ، صوبے کے وسائل پر عوام کے حق کو تسلیم کرانا اور محروم طبقات کو ان کے حقوق دلانا ہے۔ جب بھی جمعیت علماء اسلام کو صوبے کی خدمت کا موقع ملا، اس نے ترقیاتی منصوبوں، روزگار کے مواقع، عوامی فلاح و بہبود اور خوشحالی کے لیے اپنی صلاحیتوں کے مطابق کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام طویل عرصے سے بے روزگاری، غربت، پسماندگی، بنیادی سہولیات کی کمی اور امن و امان کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، ان مسائل کا حل سیاسی انتقام، اقتدار کی تبدیلیوں اور غیر جمہوری تجربات میں نہیں بلکہ سنجیدہ حکمت عملی، شفاف طرزِ حکمرانی، میرٹ کی بالادستی اور عوامی وسائل کے منصفانہ استعمال میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ سیاسی جماعتیں عوامی فیصلے کا احترام کریں، اختلافِ رائے کو برداشت کریں اور سیاسی مسائل کا حل آئینی و پارلیمانی طریقہ کار کے ذریعے تلاش کریں۔ بلوچستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ ایسی سیاست چاہتے ہیں جس میں ان کے ووٹ، حقوق اور مستقبل کو اہمیت دی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں