ڈاکٹر رشید احمد خاں
11 اکتوبر بروز اتوار کو صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر خیبر پختونخوا میں آئینِ پاکستان کی دفعہ 232 کے تحت ایمرجنسی اور دفعہ 234 کے تحت گورنر راج نافذ کر دیا۔ اس اقدام کے بعد خیبر پختونخوا میں سہیل آفریدی کی حکومت ختم ہو گئی‘ اور ان کی حکومت کے تمام اختیارات گورنر فیصل کریم کنڈی کو منتقل ہو چکے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں آئین میں دیے گئے اختیارات کے تحت صوبائی حکومتوں کی برطرفی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی خیبر پختونخوا‘ سندھ‘ بلوچستان‘ پنجاب اور مشرقی پاکستان میں اس نوع کے اقدامات کیے جا چکے ہیں۔ آئینی نقطۂ نظر سے یہ سب اقدامات جائز ہیں لیکن سیاسی لحاظ سے ان کے مضمرات کافی سنگین ثابت ہوئے۔ اس اقدام سے براہِ راست متاثر ہونے والی جماعت پی ٹی آئی کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں‘ جن میں متحدہ اپوزیشن میں شامل جماعتیں‘ عوامی نیشنل پارٹی‘ سندھ کی قوم پرست جماعتیں اور ملک کی تقریباً تمام بار کونسلز شامل ہیں‘ نے اس اقدام کو ہدفِ تنقید بنایا اور اس کی واپسی اور حکومت کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے لیکن وفاقی حکومت نے اس اقدام کے حق میں جو دلائل دیے ہیں انہیں بھی آسانی سے رد نہیں کیا جا سکتا۔
وفاقی حکومت کے مؤقف کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ نومبر 2022ء میں کالعدم ٹی ٹی پی کی طرف سے حکومتِ پاکستان کے ساتھ کیے گئے جنگ بندی کے معاہدے کو ختم کرنے کے اعلان کے بعد صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور خاص طور پر گزشتہ دو برسوں میں ان واقعات میں تقریباً 800فیصد اضافے کے ساتھ یہ ملک کی سلامتی کے لیے ایک ہولناک خطرے کی صورت اختیار کر چکی تھی۔ وفاقی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کی بڑی وجہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی طرف سے دہشت گردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے ساتھ عدم تعاون کی پالیسی تھی اور اس حقیقت کے پیشِ نظر کہ کے پی ایک فرنٹ لائن صوبہ ہے اور کالعدم ٹی ٹی پی نے اپنا تمام تر فوکس اسی صوبے پر جما رکھا ہے‘ وفاقی حکومت ایسی صوبائی حکومت کو کسی طور بھی برداشت نہیں کر سکتی جو اس کی کاؤنٹر ٹیررازم مہم میں تعاون کرنے پر آمادہ نہ ہو۔ یہ حقیقت بھی عیاں ہے کہ صوبائی حکومت کے تعاون کے بغیر دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی‘ اس لیے وفاقی حکومت نے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی تمام تر ذمہ داری معزول وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر ڈال دی ہے‘ کیونکہ انہوں نے متعدد درخواستوں کے باوجود وفاقی حکومت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کندھے سے کندھا ملانے سے انکار کیا۔ لیکن تحریک انصاف نے ان الزامات کو رد کرتے ہوئے جوابی الزام عائد کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے سیاسی اختلافات کی بنا پر پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو انتقام کا نشانہ بنایا ہے۔
اس بحث میں الجھے بغیر کہ کون کس حد تک درست ہے‘ اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ دہشت گردی خصوصاً ٹی ٹی پی کے مسئلے پر پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت کے مؤقف ایک دوسرے سے اتنے مختلف ہیں کہ دونوں کا ایک ساتھ چلنا تقریباً ناممکن تھا اور 11اکتوبر کو جو فیصلہ ہوا ‘ اس کی پیش گوئی ایک عرصے سے کی جا رہی تھی اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی نے اسے ناگزیر بنا دیا تھا۔ اگرچہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد حکومت اور پی ٹی آئی میں ایک دفعہ پھر مذاکرات کی باتیں ہو رہی ہیں۔ مگر ان مذاکرات یا ان کی کامیابی کا امکان بہت کم ہے۔ کیونکہ اگر فریقین مذاکرات پر راضی ہو جاتے ہیں تب بھی ان کے ایجنڈے میں باقی سب کچھ تو شامل ہو سکتا ہے‘ لیکن گورنر راج کی واپسی یا صوبائی حکومت کی بحالی مکمل طور پر خارج از امکان ہے۔ اس لیے خیبر پختونخوا میں اب وفاقی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا تمام تر بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھانا ہوگا اور اس مقصد میں کامیابی کیلئے ایک نئی‘ بہتر‘ جامع اور ہمہ گیر حکمتِ عملی اختیار کرنا ہو گی کیونکہ صوبے میں دہشت گردی میں تیزی سے اضافہ بتاتا ہے کہ اب تک جس حکمتِ عملی کے تحت اس چیلنج کا سامنا کیا گیا ہے‘ وہ کامیاب ثابت نہیں ہوئی۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے عوام کے دل و دماغ جیتنا زیادہ اہم‘ بلکہ اس جنگ میں کامیابی کے لیے اوّلین شرط ہے۔ دہشت گردوں کی طرف سے اب مہلک ہتھیار بے دریغ استعمال ہو رہے ہیں‘ جس کی وجہ سے بھاری جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے۔ اب تو دہشت گرد اپنی مذموم کارروائیوں میں ڈرون‘ کوآڈ کاپٹر اور مارٹر فائر کا استعمال بھی کر رہے ہیں۔ اس سے عام شہریوں‘ جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں‘ کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔اس حقیقت کے باوجود کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے لیے عوام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہیں‘ لیکن بڑے اور وسیع آپریشنز کے حوالے سے ان میں ہچکچاہٹ پائی جاتی ہے۔ اس لیے دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے سیاسی اتفاقِ رائے حاصل کرنے اور عوام‘ قبائلی عمائدین اور دیگر مقامی طبقات کو بھی ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے کے دوران پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت کچھ سیکھا ہے اور اس کے مطابق اپنی حکمت عملی اور لڑائی کے طریقۂ کار میں مناسب اور ضروری تبدیلیاں بھی کی ہیں مگر دہشت گردی کا ناسور ختم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہا ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے پوری طرح سمجھنے کے لیے حکام کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں عوام اور مقامی سطح پر بااثر افراد‘ بالخصوص قبائلی عمائدین اہم اور مددگار کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے سیاسی اِن پُٹ اشد ضروری ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ایسی صوبائی حکومت کا تعاون کلیدی اہمیت رکھتا ہے جس پر عوام کا اعتماد ہو‘ یعنی ایسی حکومت جسے عوام کے مسائل کے حل میں دلچسپی ہو‘ اور اپنی تمام تر توانائیاں اس مقصد کے لیے صرف کی ہوں۔دنیا میں فنِ حرب کے ماہرین کی عمومی رائے ہے کہ سیاسی قیادت کے تعاون اور مدد کے بغیر محض ہتھیاروں اور طاقت کے زور پر اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب نہیں ہو سکتی کیونکہ کوئی بھی جنگ‘ خواہ وہ دہشت گردی کے خلاف ہی کیوں نہ ہو‘ بنیادی طور پر ایک سیاسی عمل بھی ہوتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس میں بیلٹ کے بجائے بُلٹ سے کام لیا جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا مسئلہ ایسا ہے جس کی جڑیں گہری ہیں اور اس کے کئی پہلو ہیں۔ اسے مکمل طور پر جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ان تمام عوامل اور اسباب کا ادراک ضروری ہے جو اس آفت کا سبب بنے۔ ان میں انتہا پسندی بھی ایک اہم سبب ہے۔ دہشت گردی کو انتہا پسندی سے الگ نہیں کیا جا سکتا؛ دونوں کے خلاف بیک وقت جنگ کرنا ہوگی۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ سکیورٹی فورسز میدانِ جنگ میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر دہشت گردوں کا مقابلہ کریں اور انتہا پسندوں کو دہشت گردوں کے بیانیے کو فروغ دینے کے لیے کھلا چھوڑ دیا جائے۔
Load/Hide Comments

