کوئٹہ(این این آئی)جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبد الواسع نے گزشتہ روز اپنی رہائش گاہ پر کارکنوں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کو آئین کی بالادستی، جمہوری اقدار کے تحفظ اور پْرامن سیاسی جدوجہد کا راستہ اختیار کرنے کی سزا دی جا رہی ہے، لیکن ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ آئین، قانون، پارلیمان اور عوام کے جمہوری حقوق کے تحفظ کی جدوجہد سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام ہمیشہ ملک میں آئین کی حکمرانی، قانون کی بالادستی، جمہوری نظام کے استحکام اور عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے پْرامن سیاسی جدوجہد کرتی رہی ہے، مگر افسوس کہ جمہوری آواز بلند کرنے والوں کے لیے مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں اور عوامی مسائل کی نشاندہی کرنے والوں کو دبانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان قدرتی وسائل، معدنی ذخائر اور گیس جیسی عظیم نعمت سے مالا مال صوبہ ہے، لیکن انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ اپنے ہی وسائل رکھنے کے باوجود بلوچستان کے عوام آج بھی گیس جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں، سردیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرتے ہیں اور گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے مہنگے متبادل ذرائع استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھنا اور صوبے کے وسائل سے حاصل ہونے والے ثمرات میں انہیں مناسب حصہ نہ دینا کسی صورت قابل قبول نہیں، وسائل پر پہلا حق یہاں کے عوام کا ہے اور انہیں تعلیم، صحت، روزگار، بجلی، گیس، صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں گیس کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنایا جائے، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور گیس کی قلت کا خاتمہ کیا جائے اور صوبے کے عوام کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کو ختم کرکے انہیں ان کے آئینی و قانونی حقوق دیے جائیں۔ صوبائی امیر نے مزید کہا کہ بلوچستان کے مسائل محض اعلانات اور وعدوں سے حل نہیں ہوں گے، بلکہ اس کے لیے سنجیدہ حکمت عملی، عملی اقدامات اور عوام کے منتخب نمائندوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام عوام کے حقوق، صوبے کے وسائل کے منصفانہ استعمال اور آئین و جمہوریت کی بالادستی کے لیے اپنی پْرامن جدوجہد جاری رکھے گی اور بلوچستان کے عوام کی آواز ہر فورم پر بلند کرتی رہے گی۔

