کوئٹہ(این این آئی) چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے ایران کے ساتھ گبد ریمدان سرحدی گزرگاہ دوبارہ کھولنے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ تجارت کی بحالی ایک مثبت اقدام ہے، تاہم اس کے ثمرات ایل پی جی کی بلاتعطل فراہمی اور مناسب قیمتوں کی صورت میں عام آدمی تک پہنچنے چاہئیں۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ سردیوں کی آمد کے پیش نظر بلوچستان، خصوصاً سرد اور دوردراز علاقوں میں، کھانا پکانے اور گھروں کو گرم رکھنے کے لیے ایندھن کی دستیابی انتہائی اہم ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ایل پی جی کے ٹینکروں اور ضروری اشیاء کی جلد کلیئرنس یقینی بنائیں تاکہ رسد بحال ہو اور عوام کو ریلیف مل سکے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے زور دیا کہ سپلائی بہتر ہونے کے ساتھ قیمتوں میں بھی کمی آنی چاہیے۔ متعلقہ ادارے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی کریں تاکہ تجارت کی بحالی کا فائدہ صارفین تک پہنچے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سرحدی تجارت ہزاروں خاندانوں، تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور مزدوروں کے روزگار سے جڑی ہوئی ہے۔ قومی سلامتی اور انسدادِ اسمگلنگ کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے قانونی تجارت کے لیے واضح، محفوظ اور قابلِ عمل طریقہ کار اختیار کرنا ضروری ہے۔ بار بار تعطل سے کاروباری بے یقینی بڑھتی ہے اور اس کا بوجھ بالآخر عام شہری پر پڑتا ہے۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ موسمِ سرما کے لیے ایل پی جی کی طلب، دستیاب ذخائر اور متبادل ذرائعِ رسد کا پیشگی جائزہ لے کر جامع منصوبہ تیار کیا جائے، تاکہ کسی نئی رکاوٹ کی صورت میں عوام کو قلت اور غیرمعمولی مہنگائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ سرحد کھولنا خوش آئند پیشرفت ہے، لیکن اس اقدام کی حقیقی کامیابی تب ہوگی جب عوام کو مناسب قیمت پر ایندھن ملے، کاروباری سرگرمیاں بحال ہوں اور مقامی آبادی کے روزگار کو تحفظ حاصل ہو۔

