کوئٹہ (این این آئی)جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبدالرحمٰن رفیق، مرکزی مجلس فقہی کے سربراہ مفتی محمد روزی خان، ضلعی ناظم عمومی حاجی عین اللہ شمس، صوبائی نائب امیر و سینئر نائب امیر کوئٹہ مولانا خورشید احمد، ڈپٹی جنرل سیکرٹری حاجی بشیراحمد کاکڑ، مولانا محمد ایوب ایوبی، عبدالغنی شہزاد، مولانا محب اللہ، حافظ شبیراحمد مدنی، حاجی رحمت اللہ، مولانا شعیب جدون، حاجی صالح محمد، حاجی قاسم خلجی، عبدالصمد حقیار، صفی اللہ مینگل نے اپنے مشترکہ بیان میں جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما، ممتاز قانون دان اور سینیٹر کامران مرتضیٰ کے گھر پر دھاوا بولنے، اہلِ خانہ کو ہراساں کرنے اور چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سینیٹر کامران مرتضیٰ کا قصور آخر کیا ہے؟ کیا قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن کے مؤقف کا مدلل دفاع کرنا، بے بنیاد الزامات کا آئینی و قانونی دلائل سے جواب دینا اور حق و سچ کی ترجمانی کرنا جرم بن چکا ہے؟ اگر یہی جرم ہے تو جمعیت علماء اسلام اپنے مؤقف سے کبھی دستبردار نہیں ہوگی۔ رہنماؤں نے کہا کہ 4 نومبر کو تقریباً چالیس نامعلوم افراد نے سینیٹر کامران مرتضیٰ کے گھر کا گھیراؤ کرکے مرکزی دروازے پر لاتیں ماریں، دیواروں پر چڑھ کر گھر کے اندر کی تصاویر بنائیں اور اہلِ خانہ کو خوف و ہراس میں مبتلا کیا۔ بعد ازاں ان کے آبائی گھر کا بھی گھیراؤ کیا، دروازوں پر لاتیں ماریں اور چھت پر چڑھ گئے۔ اس وقت گھر میں ان کے چھوٹے بھائی عدنان سمیت خواتین اور بچے موجود تھے۔ شناخت دریافت کرنے پر مذکورہ افراد نے اپنی شناخت ظاہر کرنے سے انکار کیا اور مبینہ طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کہنے پر آنے کا دعویٰ کیا۔ رہنماؤں نے سوال کیا کہ ایک منتخب سینیٹر، سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور ملک کی ایک بڑی سیاسی و مذہبی جماعت کے مرکزی رہنما کے گھر کی یہ صورت حال ہے تو ایک عام پاکستانی شہری کے جان و مال، عزت و آبرو اور بنیادی حقوق کا تحفظ کون کرے گا؟ کسی بھی ادارے یا فرد کو قانون سے بالاتر ہوکر شہریوں کے گھروں میں خوف و ہراس پھیلانے اور خواتین و بچوں کو ہراساں کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ اگر کوئی قانونی معاملہ ہے تو اس کے لیے آئینی و قانونی راستے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام حق و انصاف کی آواز کو دبانے، سیاسی قیادت کو خوف زدہ کرنے اور اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے خاموش کرانے کی ہر کوشش مسترد کرتی ہے۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ قائد جمعیت کے مؤقف اور جماعت کے نظریے کی ترجمانی کرتے رہیں گے اور ایسے ہتھکنڈے ان کے عزم کو کمزور نہیں کرسکتے۔ہم ایسے عناصر کو دوٹوک الفاظ میں متنبہ کرتے ہیں کہ اپنی غیر قانونی اور اوچھے ہتھکنڈوں سے باز آجائیں۔ جمعیت علماء اسلام کے کارکن اپنے قائدین کی عزت، حرمت اور تحفظ کا دفاع کرنا خوب جانتے ہیں اور اس کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ جماعت کے سرفروش کارکن اپنے قائدین کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اگر قیادت نے کوئی لائحہ عمل دیا تو کارکن ہر آئینی، قانونی اور جمہوری محاذ پر بھرپور کردار ادا کریں گے۔ چادر و چار دیواری کی پامالی اور قیادت کو ہراساں کرنے کے واقعات کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

