پاکستان کو معاشی استحکام،پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنا اولین ترجیحات میں شامل ہے،سیدال خان ناصر

کوئٹہ+اسلام آباد(این این آئی)ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن، مذاکرات، باہمی احترام اور اقتصادی تعاون کا خواہاں ہے علاقائی امن و استحکام تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے فروغ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔یہ بات انہوں نے جمعہ کو چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز سینیٹر عامر ولی الدین چشتی، سابق گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا، پارلیمنٹیرینز اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے ملاقات کی۔ ملاقات میں سابق سینیٹر ثناء جمالی، چوہدری نعیم کریم، شاندانہ، ڈاکٹر ارشاد احمد خان، ڈاکٹر محمد عجمی، قبائلی عمائدین، وکلاء اور سماجی تنظیموں کے نمائندے بھی شریک تھے۔ملاقات کے دوران ملک کی سیاسی، معاشی اور پارلیمانی صورتحال، حکومتی اصلاحات، معاشی استحکام، سرمایہ کاری کے فروغ، صنعتی و تجارتی سرگرمیوں میں اضافے، قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے کہا کہ پاکستان کو معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ سیاسی اور عسکری قیادت کی مدبرانہ حکمت عملی، باہمی ہم آہنگی اور قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے کیے جانے والے اقدامات سے ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی یکجہتی، سیاسی استحکام اور معاشی اصلاحات موجودہ حالات میں خصوصی اہمیت کی حامل ہیں۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ملکی معیشت کی مضبوطی کے لیے کاروباری ماحول کو بہتر بنانے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے، صنعتی استعداد کار میں اضافے اور تجارت کے فروغ پر توجہ دی جا رہی ہے۔ پاکستان میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، جن سے استفادہ کرکے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں اور برآمدات میں اضافہ ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان قدرتی وسائل اور معدنی ذخائر سے مالا مال ہیں۔ ان وسائل کو جدید ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق، مؤثر منصوبہ بندی اور شفاف طریقہ کار کے ذریعے قومی ترقی کے لیے بروئے کار لانا ضروری ہے۔ معدنی وسائل کی دریافت اور مقامی سطح پر ویلیو ایڈیشن سے نہ صرف قومی معیشت مضبوط ہوگی بلکہ متعلقہ علاقوں میں روزگار اور صنعتی ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پسماندہ علاقوں کی ترقی اور مقامی آبادی کو ترقی کے ثمرات میں شریک کرنا ناگزیر ہے۔سیدال خان ناصر نے کہا کہ تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے، توانائی اور انسانی وسائل کی ترقی حکومتی ترجیحات کا اہم حصہ ہیں۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں سے استفادہ اور ہنرمند افرادی قوت کی تیاری ملکی پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لیے ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ قومی پالیسی سازی، قانون سازی، حکومتی اقدامات کی نگرانی اور عوامی مسائل کی نمائندگی میں بنیادی آئینی کردار ادا کرتی ہے۔ پارلیمنٹیرینز کو قومی مفاد اور عوامی توقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے۔ سیاسی قیادت اور پارلیمانی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ قومی مسائل کے حل اور جمہوری استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں امن، مذاکرات، باہمی احترام اور اقتصادی تعاون کا خواہاں ہے۔ علاقائی امن و استحکام تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے فروغ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط، سیاسی طور پر مستحکم اور خوشحال ملک بنانے کے لیے تمام قومی اداروں، پارلیمنٹیرینز، سیاسی قیادت، کاروباری برادری اور معاشرے کے تمام طبقات کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ قومی وسائل سے بھرپور استفادہ، سرمایہ کاری میں اضافہ، اصلاحات کے تسلسل اور عوامی فلاح و بہبود کے ذریعے پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی نئی منزلوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں