کوئٹہ (این این آئی)صوبائی وزیرپبلک ہیلتھ انجینئرنگ سردار عبدالرحمان کھیتران نے محکمہ کے زیر استعمال گاڑی کی سیاحتی مقام پر استعمال کی خبر کو غلط قرار دے دیتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر نظر آنیوالی گاڑی مانگی پراجیکٹ ڈائریکٹر کے زیراستعمال نہیں تھی،یہ الزام لگا کر اس کی کردار کشی کی گئی۔ترجما ن حکومت بلوچستان نے مجھے، سیکرٹری پی ایچ ای، پی ڈی سمیت کسی سے پوچھے بغیر بیان جاری کیا، چیف سیکرٹری سمیت دیگر حکام نے بغیر سوچے سمجھے کاروائی کر کے پی ڈی کو ہٹایا، وزیراعلی کے احکامات پربیان نہیں دیا توان کیخلاف کارروائی کی جائے۔یہ بات انہوں نے کوئٹہ میں اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پرسرکاری گاڑی کے استعمال کی ویڈیو کامعاملہ چلا،ویڈیو سامنے ا ٓتے ہی محکمہ پی اینڈ ڈی کوعہدے سے ڈی نوٹیفائی کردیا،ویڈیومیں نظر آنیوالی گاڑی مانگی پراجیکٹ ڈائریکٹر کے زیراستعمال نہیں تھی، ویڈیو والی گاڑی پرجعلی نمبرپلیٹ لگی ہے۔انہوں نے کہا کہ مانگی ڈیم پراجیکٹ کیلئے3گاڑیاں 2017 میں خریدی گئیں،جی بی بی 938نمبروالی اصل گاڑی ہمارے پا س کوئٹہ میں موجود ہے،ٹریکنگ کا رکارڈ نکالا جائے ہماری گاڑی کوئٹہ میں موجود رہی ہے اور ویڈیو میں نظر آنیوالی گاڑی سیاہ ہماری گاڑی سفید ہے،ان کا کہنا تھا کہ دکھ کی بات ہے محکمہ کی گاڑی کا معاملے پرمجھ سے یاسیکرٹری سے رابطہ نہیں کیا گیا،حیرت ہے میرے محکمے کوبغیر تحقیق کیوں نشانہ بنایا گیا،صوبائی وزیر پی ایچ ای کا کہنا تھا کہ ترجمان بلوچستان حکومت نے بیان دیا کہ سرکاری گاڑی استعمال کرنے والاافسرفوری معطل ہے،ترجمان حکومت نے وزیراعلی کی ہدایات پرپریس بیان دیا ہے تو وزیراعلیٰ اس کی مذمت کریں اگر ترجمان حکومت عجلت میں نے ازخود نے بیان دیا ہے تو اس کے خلاف کاروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) برابری کی بنیاد پر حکومت میں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ترجمان اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری دونوں کے خلاف کاروائی کی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مانگی ڈیم پانی کا وہ منصوبہ جو شہر کی تقدیر بدل دے گایہ بند سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں سے مکمل ہوا، ایک کرنل اور سپاہی نے جام شہادت نوش کیا جوانوں کی قربانیوں والے منصوبے کو متنازعہ بنانا افسوسناک ہے معاملے کو اس حد تک اسکینڈلائز کیا گیا جیسے پاکستان اور بھارت میں جنگ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایس پی ٹریفک کو اصول طے کرنے کا کہا جائے کہ فیملی کا دوسرا فرد سرکاری گاڑی نہ چلائے جو سیکرٹریز یہاں خدمات انجام دے کر گئے، کیا ان کے پاس بھی سرکاری گاڑیاں نہیں؟ بغیر تحقیق و تفتیش، محکمہ کو نشانہ بنانا سمجھ سے بالاتر ہے۔انہوں نے کہا کہ عجلت میں فیصلے نہیں، گراؤنڈ پر تحقیقات ہونی چاہئیں اگر میرے خلاف انکوائری نکلی تو سزا بھگتنے کو تیار ہوں۔

