’کیلوں، سیمنٹ، سریے کے بغیر‘ بنی کمراٹ کی 200 سالہ قدیم مسجد

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع دیر بالا کے سیاحتی مقام کمراٹ میں داخل ہوتے ہی تھل بازار میں واقع ایک تاریخی مسجد سیاحوں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لیتی ہے۔

دریا کے کنارے قائم یہ مسجد جامعہ دارالسلام کے نام سے مشہور ہے اور تقریباً 200 سال پرانی بتائی جاتی ہے۔

یہ مسجد اپنی منفرد تعمیراتی طرز کی وجہ سے نمایاں ہے، جس میں نہ تو سیمنٹ، نہ سریا اور نہ ہی لوہے کی کیل استعمال ہوئی ہے۔

اس کی تعمیر مکمل طور پر لکڑی، پتھروں اور لکڑی کی کیلوں کے ذریعے کی گئی ہے۔

مسجد کے ستون، چھت اور دیواروں پر نفیس لکڑی کا کام اور نقش و نگار دیکھنے والوں کو ماضی کی کاریگری کا عکس دکھاتے ہیں۔

مسجد کے موجودہ خطیب مولانا شہاب الدین گذشتہ 10 برس سے یہاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے مطابق مسجد کی ابتدائی تعمیر تقریباً 200 سے 250 سال پہلے ہوئی تھی، تاہم ایک زمانے میں لگنے والی آگ سے اسے شدید نقصان پہنچا۔

اس کے بعد مسجد کی دوبارہ تعمیر 1953 میں کی گئی، جس کی یادگار ایک تختی مسجد کے محراب پر آج بھی نصب ہے۔

شہاب الدین کے بقول ’یہ مسجد اپنی طرز تعمیر میں منفرد ہے۔ اس میں استعمال ہونے والی تمام کیلیں لکڑی کی ہیں، اور دیواروں کی موٹائی چھ فٹ تک ہے۔‘

مسجد دو حصوں پر مشتمل ہے، ایک بڑا ہال اور ایک کشادہ برآمدہ۔

سردیوں میں ہال کے اندر نصب بڑی انگیٹی کو جلا کر نماز ادا کی جاتی ہے، جبکہ گرمیوں میں نماز کے لیے برآمدے کا استعمال کیا جاتا ہے۔

 

مسجد کی دیواروں پر لکڑی کی نفیس نقاشی اور مضبوطی کے لیے پتھروں کا استعمال کیا گیا ہے، جو اس کی پائیداری کا ثبوت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں