کوئٹہ(این این آئی)ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کو تبائی کے دہانے پر پہنچانے والی غیر آئینی و غیر جمہوری، خود ساختہ مشاورتی کونسل (سپریم کونسل) کا ایک مرتبہ پھر اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے تنظیمی معاملات میں مداخلت کسی بھی صورت تنظیم کے مفاد میں نہیں نئی کابینہ کی تشکیل کیلئے پوری کمیونٹی کو مدعو کرنے اور اعتماد میں لیے بغیر مشاورتی کونسل کے گٹھ جوڑ اور لیے جانے والے فیصلوں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ غیر آئینی و غیر جمہوری رویوں کو پروان چڑھاتے ہوتے مشاورتی کونسل (سپریم کونسل) کا کمیونٹی کو اعتماد میں لیے بغیر ڈہائی سال پہلے کئے جانے والے ناکام تجربے کے نتیجے میں بننے والی سلیکٹڈ کابینہ کی کارکردگی، تنظیم کی موجودہ خستہ حالی، مفلوج کابینہ کی موجودگی میں دن بدن بڑھتی ہوئی حکومتی ہٹ دھرمی اور اس کے نتیجے میں ڈاکٹر کمیونٹی کی تزلیل پوری کمیونٹی کے سامنے واضع ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر کمیونٹی کی واحد امید اور شعبہ صحت کی میجر اسٹیک ہولڈر تنظیم ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کو نئے تجربات اور غیر جمہوری و غیر آئینی فیصلوں کی وجہ سے مزید کمزور نہیں ہونے دیں گے، مشاورتی کونسل (سپریم کونسل) کی کابینہ کی فی الفور تحلیل اور جمہوری طرز پر پوری کمیونٹی کو اعتماد میں لیتے ہوئے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کی نئی کابینہ کی تشکیل کا طریقہ کار وضع کرنے کیلئے ہنگامی اجلاس کا انعقاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں. بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام ڈاکٹرز کمیونٹی کی مشاورت سے جمہوری طرز پر الیکشن کمیشن کا انعقاد کیا جائے، الیکشن کا طریقہ کار اور تاریخ طے کی جائے، بیلٹ / ووٹ کے ذریعے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کی نئی کابینہ کی تشکیل ہو سکے تاکہ جمہوریت سے بننے والی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کی نئی کابینہ کمیونٹی کے مسائل، روز بروز بڑھتی ہوئی حکومتی ہٹ دھرمی اور مستقبل میں کسی بھی قسم کے چیلنجز سے بخوبی نمٹ سکے گی۔

