کوئٹہ(این این آئی)انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (IOM) بلوچستان کے سمیع اللہ اچکزئی نے کہا ہے کہ آرگنائزیشن انٹر پرائزز ڈویلپمنٹ فنڈ(ای ڈی ایف) کے توسط سے بلوچستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے بزنسز کی ترقی کیلئے ہر ممکن مالی معاونت کرے گی،ان انٹر پرائزز کی مالی معاونت کی جائے گی جن میں کم از کم 3مستقل ملازمین ہوں گے اور وہ گزشتہ تین سال سے فعال ہوں، گزشتہ دو برسوں کے دوران بلوچستان میں 39 بزنسز کو سپورٹ کر چکے ہیں تیسرے راؤنڈ میں بلوچستان کے60بزنسز سے منسلک انٹر پرائزز کوآرگنائزیشن کے شرائط پر پورا اترنے کی صورت میں مالی طور پر سپورٹ کیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کے عہدیداران و ممبران کے ساتھ منعقدہ سیشن کے دوران کیا۔اس سے قبل انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (IOM) بلوچستان کے سمیع اللہ اچکزئی و دیگر ٹیم ممبران چیمبر پہنچے تو چیمبر کے سنیئر نائب صدر حاجی اختر کاکڑ،صلاح الدین خلجی و دیگر نے انہیں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں شرح خواندگی کم ہونے کے باعث لوگ اس طرح کے منصوبوں سے مستفید نہیں ہو پاتے،ایک طرف بنکوں نے بلوچستان میں کڑی شرائط عائد کرکے قرضے دینے کا سلسلہ روک رکھا ہے تو دوسری جانب تعلیم کی کمی نے رہی سہی کسر پوری کر دی ہے ہمیں آن کاروبار کو وسعت دینے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے آن لائن اپلائی و دیگر بارے معاونت فراہم کی جائے۔اس موقع پر انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (IOM) بلوچستان کے سمیع اللہ اچکزئی اور جنید خان کا کہنا تھا کہ آرگنائزیشن انٹر پرائزز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت بلوچستان میں پہلے دو راؤنڈز میں کوئٹہ،پشین،لورالائی اور قلعہ سیف اللہ میں ورک پلیس رکھنے والے انٹر پرائزز کو39 بزنسز کی ترقی اور وسعت کیلئے سپورٹ کر چکی ہے بلکہ تیسرے راؤنڈ میں 60 بزنسز کو سپورٹ کرنے کا پلان ہے ہم ان انٹر پرائزز کی معاونت کریں گے جو کم از کم تین مستقل ملازمین رکھتے ہو،خواتین کیلئے 2 مستقل ملازمین والے انٹر پرائزز پر بھی سہولت دی جا سکتی ہے تاہم اس کے لئے ورک پلیس کا پشین،کوئٹہ،لورالائی یا قلعہ سیف اللہ میں ہونا ضروری ہے اہلیت کیلئے کمپنی کا تین سال سے فعال ہونا،بنک سرٹیفیکٹ ودیگر شرائط کو پورا کرنا ہوگا انہوں نے کہا کہ ہمیں افغان مہاجرین کمشنریٹ اور سیفران کا تعاون حاصل ہیں بلکہ ہم اہلیت رکھنے والوں کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی طرز پر سہ ماہی بنیادوں پر 40 سے 50 ہزار روپے تک ادا کر رہے ہیں اس کے علاؤہ ہنر مند افراد کی مالی معاونت 5لاکھ روپے تک ہے انہوں نے کہا کہ ہم گلہ بانی،بزنس کی مسنگ سہولیات کی فراہمی،کان کنی،تعمیرات سروسز اور مشینری کی فراہمی کے لئے بزنسز کو 50 لاکھ روپے تک کی فراہمی کر سکتے ہیں تاہم کمپنیوں کو نئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے سمیت کاروبار کو ترقی دینا ہو گی۔انہوں نے کہا کہ آن لان اپلائی میں مشکلات کا سامنا کرنے والوں کو ہم تیکنیکی معاونت فراہم کرنے کو بھی تیار ہیں چیمبر کے عہدیداران و ممبران کے ساتھ سیشن کا مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کومزید فروغ اور ترقی دینا ہے۔

