اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ مسابقتی کمیشن کی کارکردگی کا جائزہ ضروری ہے، ریگولیشن اور پرائیویٹ سیکٹر ساتھ ساتھ چلیں گے۔پیر کو سینیٹ اجلاس میں سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ میں سینیٹر محسن عزیز کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی کارکردگی کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر نے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تاہم موثر ریگولیشن اور چیک اینڈ بیلنس کا نظام بھی ضروری ہے تاکہ مارکیٹ میں مسابقت کا ماحول برقرار رہے۔انہوں نے تجویز دی کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں مسابقتی کمیشن کے چیئرمین کو طلب کیا جائے تاکہ کمیشن کی گزشتہ دو برس کی کارکردگی پر رپورٹ پیش کی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ کمیشن میں حالیہ عرصے میں نئی انتظامیہ نے چارج سنبھالا ہے اور ماضی کے کئی اہم معاملات زیر التوا تھے۔وزیر خزانہ نے ایوان کو آگاہ کیا کہ مسابقتی کمیشن میں مجموعی طور پر 567عدالتی کیسز زیر التوا تھے، گزشتہ دو برسوں میں 224کیسز نمٹا دیئے گئے، اس طرح کمیشن نے تقریبا 50فیصد مقدمات حل کرلئے ہیں، اگست 2023ء سے اب تک 12کروڑ روپے جرمانے اور فیسوں کی مد میں وصول کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت پرعزم ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر کی آزادی اور ترقی کو یقینی بناتے ہوئے ایک موثر ریگولیٹری فریم ورک بھی قائم رکھا جائے گا تاکہ شفاف، منصفانہ اور مسابقتی تجارتی ماحول کو فروغ ملے۔

