کو ئٹہ(این این آئی)بلوچستان میں پولیو کے خلاف کامیاب پیش رفت، ماحولیا تی نمو نوں میں وائرس کی موجودگی کی شرح98فیصد سے کم ہو کر 17فیصد رہ گئی ہے، 2025میں کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ایمر جنسی آپریشن سنٹر بلو چستان کے مطابق صوبے میں 2025ء کے ما ہ جو ن تک پولیو وائرس کے پھیلا ؤکو روکنے کی کوششوں میں نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سال رواں کی پہلی ششماہی میں 23علاقوں سے میں سے صرف 4علاقوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے اور مثبت ماحولیاتی نمونوں کی شرح17فیصد پر آ گئی ہے یہ بہتری موثر نگرانی، بروقت اقدامات اور مربوط حکمت عملیوں کا نتیجہ ہے جو بلوچستان میں صحت عامہ کے شعبے میں لئے گئے موثر اقدامات کی غماز ہے اس کے برعکس 2024میں صوبے کے تمام 23ماحولیاتی نگرانی مراکز میں وائرس کی موجودگی رپورٹ ہوئی تھی اور سال 2024 کے دوران پہلی ششماہی میں ماحولیاتی نمونوں میں 72فیصد جبکہ دوسری ششماہی میں 98فیصد پولیو وائرس کی موجودگی پائی گئی تھی ستمبر 2024میں وائرس کی شدت نقطہ عروج پر تھی جب 95فیصد نمونے مثبت آئے اور پانچ کیسز کی بھی تصدیق ہوئی۔اس طرح بلو چستان کا ملک کے دیگر صو بوں سے موازہ کیا جا ئے تو سندھ میں 2024 میں مثبت مو حولیاتی نمونے 70فیصد سے بڑھ کر 2025میں 84فیصد ہو گئی ہے جبکہ کراچی بلاک میں یہ شرح 90فیصد سے بڑھ کر 94فیصد تک جا پہنچی کرا چی میں صرف جون 2025میں 83فیصد نمونے مثبت پائے گئے۔خیبر پختونخوا میں 2024کے دوران 22پولیو کیسز رپورٹ ہوئے تھے جبکہ 2025میں اب تک 8کیسز سامنے آ چکے ہیں جن میں اکثریت جنوبی علاقوں سے تعلق رکھتی ہے۔ سندھ میں گزشتہ سال 23کیسز کے بعد 2025میں مزید 4 پو لیوکیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔ پنجاب اور گلگت بلتستان میں ایک ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔اس کے برعکس، بلوچستان میں 2025میں تاحال پولیو وائرس کا ایک بھی کیس رپورٹ نہیں ہوایہ کامیابی مربوط حکمت عملی، معمول کی اور اضافی حفاظتی ٹیکہ جات کی مضبوط سرگرمیوں، فیلڈ ٹیموں، حکومتی قیادت اور شراکت دار اداروں کے عزم کا ثمر ہے۔ایمرجنسی آپریشن سینٹر (EOC)بلوچستان کے کوآرڈینیٹر انعام الحق کے مطابق یہ پیش رفت فرنٹ لائن ویکسینیٹرز سے لے کر مقامی سیاسی، قبائلی، مذہبی رہنماؤں تک ہر ایک کی محنت اور لگن کی عکاس ہے۔علمائے کرام نے جمعہ کے خطبات اور مقامی محفلوں میں ویکسین کی اہمیت اجاگر کر کے اہم کردار ادا کیاہے۔ میڈیا نے غلط فہمیوں کا موثر جواب دیا اور معتبر آوازوں کو اجاگر کیا جبکہ تکنیکی اداروں نے تکنیکی اور عملی معاونت فراہم کی۔ صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ نے مہمات کی منصوبہ بندی، وسائل کی فراہمی اور موثر نگرانی کو یقینی بنایا۔انعام الحق نے مزید کہا کہ ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی موجودگی کم ہو رہی ہے اور یہ ہمارے لیے امید کی علامت ہے لیکن وائرس ابھی بھی موجود ہے اور اگر ہم غفلت برتتے ہیں تو یہ دوبارہ حملہ کر سکتا ہے بلوچستان کی یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ اتحاد، تسلسل اور عوام کے اعتماد سے ہم اجتماعی طور پر صحت کے میدان میں بڑی کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔

