کوئٹہ(این این آئی) ایمرجنسی آپریشن بلوچستان کے کوآرڈینیٹر انعام الحق نے کہا ہے کہ بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے اور وائرس کے خاتمے کی کوششوں کے تحت، بلوچستان میں پیر، 28 جولائی سے 4 اگست 2025 تک ہفتہ بھر کی فرکشنل ان ایکٹیویٹڈ پولیو ویکسین (fIPV) مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ مہم کا ہدف صوبے کے 123 ہائی رسک یونین کونسلز ہیں جن 4 سے 59 ماہ کی عمر کے 5 لاکھ 85 ہزار 490 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے ٹیکے لگائے جائیں گے۔ پولیو وائرس سے متاثرہ یونین کونسلز کوئٹہ، پشین، چمن، ڈیرہ بگٹی، دکی، ڑوب اور قلعہ عبداللہ کے علاقوں میں ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ مہم پولیو وائرس کی منتقلی روکنے اور کمزور بچوں میں قوتِ مدافعت بڑھانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ مجموعی طور پر 1,835 ویکسینیشن ٹیمیں مہم میں حصہ لے رہی ہیں۔ پولیو سے بچاو کے ٹیکوں کے ساتھ ساتھ اوورل پولیو ویکسین (OPV) پولیو کے قطرے بھی پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پلائے جائیں گے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پولیو سے بچاو کا ٹیکہ (fIPV) ایک اہم بوسٹر ڈوز کے طور پر کام کرتی ہے، غذائی قلت یا بار بار بیماریوں سے کمزور بچوں کو پولیو وائرس سے محفوظ رکھنے کیلئے انتہائی موثر ہے۔ایمرجنسی آپریشن سینٹر (EOC) بلوچستان کے کوآرڈینیٹر انعام الحق نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو یہ ٹیکے ضرور لگوائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ fIPV محفوظ اور مؤثر ہے اور بچوں کو پولیو کی وجہ سے ہونے والی مستقل معذوری سے بچانے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ویکسینیشن ٹیموں کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ صوبائی حکام نے میڈیا سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ آگاہی مہم میں حصہ لے کر غلط معلومات کا خاتمہ کریں اور والدین کو مہم میں بھرپور شرکت پر آمادہ کریں بلوچستان پولیو کے خاتمے کے قومی مشن میں ایک اہم محاذ ہے، اور ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے مسلسل اور مربوط ویکسینیشن مہمات ناگزیر ہیں۔

