کمیونٹی اساتذہ گزشتہ 18سال سے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کررہے ہیں،حکومت فوری طور پر اساتذہ کی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کرے،امین اللہ خان میانی

کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان کمیونٹی اسکولز ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر امین اللہ خان میانی نے کہا ہے کہ 1030کے قریب میل اور فی میل کمیونٹی اساتذہ گذشتہ 18سال سے انتہائی قلیل تنخواہوں میں اپنے فرائض انتہائی ایمانداری سے سرانجام دے رہے ہیں اور بچوں کو درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا ہے حکومت کمیونٹی اساتذہ پر ترس کھاکر فوری طور پر انکی تنخواہوں میں اضافہ اور کمیونٹی اساتذ ہ کا والدین کمیٹی کی بجائے براہ راست بی ای ایف کے ساتھ معاہدہ کرے۔ یہ بات انہوں نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے بلوچستان کمیونٹی اسکولز ٹیچرز ایسوسی ایشن کے احتجاجی کیمپ میں اساتذہ سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ کمیونٹی اساتذہ گزشتہ 18سال سے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کررہے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے کمیونٹی اساتذہ کے مسائل حل کرنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسکول کمیٹیوں کے صدور نے سکولوں کو کاروبار بنارکھا ہے اور اساتذہ سے معاہدہ برقرار رکھنے کیلئے باقاعدہ رقم کا مطالبہ کیا جاتا ہے جب کمیٹی کے صدر کا بیٹا یا بیٹی میٹرک پاس کرلیتی ہے تو وہ بی ای ایف سے اپنے بچوں کے آرڈر کرکے موجودہ استاد کو نوکری سے نکال دیتے ہیں جو کہ ظلم کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی،صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی،وزیر خزانہ میرشعیب نوشیروانی، چیف سیکرٹری،سیکرٹری تعلیم سے اپیل کرتے ہیں کہ بی ای ایف کے بورڈ اجلاس میں اساتذہ کے حق میں فیصلہ کرکے بی ای ایف کے ساتھ معاہدہ کیا جائے تاکہ ٹیچرز پرسکون ماحول میں بچوں کو درس و تدریس کا عمل جاری رکھ سکیں اورکمیونٹی اساتذہ کی تنخواہوں میں فوری طور پر مہنگائی کے حساب سے اضافہ کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں