بلوچستان کی صورتحال مخدوش، زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی گئی تو حالات مزید ابترہوں گے، بی این پی

کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں گنے چنے سیاسی بونوں کی جانب سے پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل پر تنقید کرنے کے رد عمل میں کہا گیا ہے کہ ایک کروڑ25لاکھ کی آبادی پرجھوٹ بیچنے والے لوگوں کو مسلط کر کے حالات کو تباہی کے دہانے پہنچا دیا گیا ہے یہی سیاسی بونے ہر دور میں اپنے نظریات، قیادت، نعروں کو بدلنے کے ساتھ ساتھ اپنے جھوٹ بیچتے رہتے ہیں تاکہ انہی کی تنخواہیں جاری رہیں اکیسویں صدی میں بلوچستانی عوام خصوصا”بلوچ نوجوانوں کی آنکھوں پر پٹی باندھنا ممکن نہیں من گھڑت باتوں کے ذریعیمختلف شکلوں میں دہائیوں اقتدار میں گزارنے والے اب بلوچستان میں ایک کلو میٹر بغیر سیکورٹی کے سفر کرنے سے قاصر ہیں ایک یونین کونسل جیتنے کی ان کی حیثیت نہیں اور سوشل میڈیا پر بیٹھ کر سب کو ٹھیک کا نعرہ الاپ رہے ہیں بلوچستان کو بحرانوں سے پیسے نہیں حقیقی عوامی قیادت کی نکال سکتی ہے عوام پر جبرا”مسلط کردہ فارم 47کے حکمران جیتنا خود کو پارسا ثابت کرنے کی کوشش کریں مگر اہل بلوچستان اس بات سے آگاہ ہیں کہ ڈیتھ سکواڈ، فارم 47اتحاد کے عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم نے بلوچستان کو پوائنٹ آف نو ریٹرن تک پہنچا کر بلوچ نوجوانوں کے بہت آگے نکال دیا ہے جہاں سے ان کی واپسی مشکل ہے بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان کی موجودہ صورتحال انتہائی مخدوش ہیں زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی گئی تو حالات مزید ابتر ہوں گے سلیکٹڈ نہیں عوام کی منتخب قیادت ہی بلوچستان کو بحران سے نکال سکتی ہے لہذا مزید سیاسی بانوں کی باتوں میں آنے کی بجائے عوام اور زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھا جائے –

اپنا تبصرہ بھیجیں