کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان کمیونٹی اسکولز ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر امین اللہ خا ن میانی نے کہا ہے کہ بلوچستان بھر میں 1030کمیونٹی خواتین اور مرد اساتذہ صوبے کے دور دراز علاقوں میں گزشتہ 18سال سے انتہائی قلیل تنخواہوں میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں حکومت کی جانب سے کمیونٹی اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافے کیلئے کوئی پالیسی نہیں ہے جس کی وجہ سے کمیونٹی اسکولز ٹیچرز مہنگائی کے اس دور میں کمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔یہ بات انہوں نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے بلوچستان کمیونٹی اسکولز ٹیچرز ایسوسی ایشن کے احتجاجی کیمپ میں اساتذہ سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔امین اللہ خان میانی نے کہا کہ اس مہنگائی کے دور میں کمیونٹی اساتذہ صوبے کے دوردراز علاقوں میں تعلیم کے فروغ کیلئے کام کررہے ہیں لیکن حکومت بلوچستان کی جانب سے انکی تنخواہوں میں اضافے کیلئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم فوری طور پر کمیونٹی اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ کرے تاکہ وہ مزید بہتر طریقے سے اپنے فرائض انجام دے سکیں۔انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان، وزیر تعلیم، وزیر خزانہ اور سیکرتری تعلیم سے اپیل کی کہ کمیونٹی اساتذہ کا براہ راست ماہدہ بی ای ایف کے ساتھ کیا جائے اور پی ٹی ایس ایم سی کو اسکولوں میں بچوں کی حاظر اوربچوں کو اسکول لانے کی ذمہ داری دی جائے تاکہ ٹیچرز کو درس و تدریس میں آسانی ہو۔

