شعبہ صحت میں انقلابی قدم، پاکستان میں پہلی بار ٹیلی میڈیسن منصوبے کا آغاز

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان میں شعبہ صحت میں انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے پہلی بار ٹیلی میڈیسن منصوبے کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے صحت میں انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے ملک میں پہلی بار ٹیلی میڈیسن منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں کراچی اور اسلام آباد میں پائلٹ پروگرام کا آغاز کیا جائے گا۔ ٹیلی میڈیسن منصوبے پر پیش رفت سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میں جوائنٹ سیکریٹری ہیلتھ اور ڈائریکٹر جنرل ڈیولپمنٹ سمیت اسپیشل کنسلٹنٹ ٹیلی میڈیسن شرکت کی۔ اجلاس میں ٹیلی میڈیسن منصوبے کی پیش رفت کا جائزہ اور درپیش چیلنجز پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ٹیلی میڈیسن منصوبے کو وقت کی اہم ضرورت اور پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم کو مستحکم بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا اور اس منصوبے کی جلد از جلد تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی تاکہ ملک بھر کے عوام اس جدید سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ 70 فیصد مریض بنیادی صحت مراکز کے بجائے بڑے اسپتالوں میں جاتے ہیں، جس کی وجہ سے بڑے اسپتالوں پر مریضوں کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ٹیلی میڈیسن کے اس جدید نظام کے ذریعے نہ صرف اسپتالوں پر بوجھ پر کم ہو گا بلکہ شہریوں کو ان کی دہلیز پر طبی سہولتیں میسر آئیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوے ڈاکٹرز اور دوا ہم مریض کی دہلیز تک لا رہے ہیں ۔ ٹیلی میڈیسن کے ذریعہ دور دراز علاقوں کے مکینوں کو ان کے گھروں کی دہلیز پر ڈاکٹرز اور دوا کی سہولت میسر ہوگی۔ اس اقدام سے غریب اور لاچار مریض جو اسپتال جانے کی استطاعت نہیں رکھتے، وہ بھی مستفید ہوسکیں گے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں