ڈیرہ اللہ یار (این این آئی) جعفرآباد میں ہیپاٹائٹس سی کنٹرول پروگرام کے تحت 6 روزہ مہم کا آغاز ہوگیا،ڈی ایچ او آفس میں پارلیمانی سیکرٹری ایس اینڈ جی اے ڈی انجینئر عبدالمجید بادینی اور ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے مہم کا افتتاح کیا، اس موقع پر ہیپاٹائٹس سی کنٹرول پروگرام کے صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر امیر علی بگٹی، ناظم صحت جعفرآباد ڈاکٹر ایاز جمالی، بابو عبدالجلیل جمالی، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال ڈیرہ اللہ یار ڈاکٹر رفیق احمد گھنیہ، ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی جعفرآباد طارق شہباز کٹوہر، میر مجیب احمد رند و دیگر بھی موجود تھے، پارلیمانی سیکریٹری انجنیئر عبدالمجید بادینی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان بھر میں ضلع جعفرآباد واحد ضلع ہے جہاں ہیپاٹائٹس کے کیسز زیادہ پائے جاتے ہیں، یہاں اکثر اموات بھی ہیپاٹائٹس کے باعث رونما ہوتی ہیں، وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، سیکریٹری صحت بلوچستان و دیگر حکام کے مشکور ہیں انہوں نے جعفرآباد میں ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام شروع کیا، انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اس مہم کے دوران اپنی اسکریننگ ٹیسٹ کرائیں اور مہم کو کامیاب بنائیں تاکہ اس موزی مرض پر قابو پایا جاسکے، ڈپٹی کمشنر خالد خان نے کہا کہ ہیپاٹائٹس پروگرام کا آغاز خوش آئند اقدام ہے، محکمہ صحت کی جانب سے جعفرآباد کے عوام کی صحت کے لیے مہم کا آغاز کیا گیا ہے، ضلعی انتظامیہ مہم کی کامیابی کے لیے محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گی، ناظم صحت ڈاکٹر ایاز جمالی کا کہنا تھا کہ 6 روزہ ہیپاٹائٹس سی کنٹرول مہم پائلٹ پروگرام ہے، مہم کے دوران ضلع بھر سے 4 افراد کی اسکریننگ ٹیسٹ کی جائیگی، 2 ہزار افراد سٹی ڈیرہ اللہ یار اور 2 ہزار دیہی علاقوں کے لوگوں کی ٹیسٹیں کی جائیں گی، انہوں نے کہا کہ مہم کے لیے 7 موبائل ٹیمیں تشکیل دیدی گئیں ہیں، محکمہ صحت کی ٹیمیں شہر کی گلی گلی اور دیہی علاقوں میں یونین کونسلز تک جا کر لوگوں کی اسکریننگ ٹیسٹ لیں گی، خدانخواستہ کوئی مریض پایا گیا اسکے خون کے نمونے لیکر لیبارٹری بھیجے جائیں گے اور انکا علاج معالجہ مفت کیا جائیگا، انکا مزید کہنا تھا کہ شعور آگہی کی کمی کے باعث ہمارے سادہ لوح انسان اتائی ڈاکٹروں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں، نائی کے پاس پرانے آلات سے داڑھی منڈوانے اور بال بنوانے کے دوران ہیپاٹائٹس کا شکار ہوتے ہیں، اسکے علاوہ بھی ہیپاٹائٹس کے پھیلنے کے دیگر اسباب بھی ہیں، ہیپاٹائٹس کی ٹیسٹیں لیبارٹریز میں مہنگی ہوتی ہیں یہی وجہ ہے کہ لوگ ٹیسٹ نہیں کراتے اور یہ مرض خاموشی سے انسان کو موت کے قریب لے جاتا ہے، صوبائی کوآرڈینیٹر ہیپاٹائٹس کنٹرول ڈاکٹر امیر علی بگٹی نے بتایا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تعاون سے پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے، پہلے مرحلے میں 4 ہزار افراد کے ٹیسٹ لیے جائیں گے اگر 300 افراد کے ٹیسٹ پازیٹو آئے تو اس پروگرام کو مزید آگے بڑھایا جائیگا۔

