غلنئی (این این آئی)ضلع مہمند محکمہ صحت میں مقامی امیدواران کا غیر مقامی امیدواروں کی بھرتیوں کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں سیاسی سماجی فلاحی تنظیموں کے نمائندوں سمیت طلبا اور امیدواروں کی شرکت۔غاخی چیک پر مظاہرین نے پشاور باجوڑ شاہراہ کو ہر قسم ٹریفک کے لئے بند کردیا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ضلع مہمند کے ہیڈ کوارٹر غلنئی میں محکمہ صحت غلنئی ہسپتال ڈی ایچ او افس کے سامنے ضلع مہمند کے مقامی امیدواروں نے محکمہ صحت غیر مقامی امیدواروں کو انٹرویو کے لیے بلانے اور مقامی امیدواروں کو نظر انداز کرنے کے خلاف شدید احثجاجی مظاہرہ کیا اور غاخی چیک پوسٹ کے مقام پر پشاور ٹو باجوڑ شاہراہ کو ہر قسم ٹریفک کے لیے بلاک رکھا جس سے مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مظاہرے سیاسی سماجی فلاحی تنظیموں کے نمائندوں سمیت کثیر تعداد میں لوگوں طلبا اور مقامی امیدواروں نے شرکت کی۔مظاہرے سے جے یو ائی کے امیر مولانا عارف حقانی ارشد بختیار ایم ڈبلیو او کے صدر میر افضل اور پاکستان پیپلز پرٹی کے فضل ہادی اور مہمند سٹوڈنٹس یونین کے نمائندوں نے کہا کہ مقامی بھرتیوں پر مقامی نوجوانوں کا حق ہے اور اشتہار میں بھی مقامی افراد کی بھرتی کو ترجیح دینے کا کہا تھا لیکن ہسپتال پر ایک مافیا عرصہ دراز سے قابض ہونے کی وجہ سے لاکھوں روپے کی رشوت لیکر مقامی افراد کے ساتھ ناانصافی کرتا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ ضلع مہمند کے ایک ایم این اے اور دو ایم پی ایز علاقے کے نوجوانوں کے مسائل حل کرنے اور ان کے ساتھ اس وقت کھڑے ہونے کی بجائے صوابی جلسے کی صورت میں خان کی رہائی کے لیے گئے اور ضلع مہمند کے پسماندہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بے یارو مدد گار چھوڑ دیا جو اس بات کی ثبوت ہے کہ اس کو ضلع مہمند کے عوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں بلکہ ان کو اپنی کرسی پیاری ہے جو اس عوام کے ووٹ سے ان کو ملی ہے اور وہ انہی پسماندہ عوام اور نوجوانوں کی وجہ سے ارب پتی بن گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ضلع مہمند کے تین منتخب نمائندے عوام کے مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں ور یہ غیر مقامی افراد کی بھرتیوں میں بھی اس کو حصہ ملتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب ضلع مہمند میں تعلیم یافتہ نوجواں کثیر تعداد میں موجود ہیں اب منتخب نمائندوں کا رشوت لینے اور اپنے بندوں کو نوازنے کا دور گزر چکا ہے۔منتخب نمائندوں نے ضلع مہمند کے اربوں کھربوں روپے ہڑپ کیے ہیں اور ایک بھی ترقیاتی کام نہیں ہوا ہے۔لیکن ہم اپنے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ساتھ کھڑے رہینگے اور ان کو ان کا حق دلاکر دینگے۔ہم مقامی انتظامیہ اور ہسپتال کے ایم ایس اور ڈی ایچ او سے اپنے نوجوانوں کے حقوق کے بارے میں پوچھ بھی سکتے ہیں اور سپریم کورٹ تک بھی جا سکتے ہیں۔لیکن منتخب نمائندوں کا اس طرح نوجوانوں کے مسائل سے انکھیں چرانا بے حسی کی بد ترین مثال ہے۔اسسٹنٹ کمشنر اپر حمزہ عثمان نے مہمند کے سیاسی نمائندگان جے یو آئی کے مولانا عارف حقانی، جے آئی کے ملک فردوس، ارشد بختیار، فضل ہادی، ن لیگ کے تاج علی، مہمند سٹوڈنٹس یونین کے مشران اور لوکل امیدواران کو یقین دہانی کروائی کہ وہ اس مسلے میں ہر قسم کے جائز و قانونی خدمات فراہم کریں گے۔اور مذاکرات کے بعد احتجاج کو ختم کردیا گیا۔

