کوئٹہ(این این آئی)پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے سابق ایڈیشنل جنرل سیکرٹری عالم خان کاکڑ نے کہا ہے کہ دنیا انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی اپنا کر نہ صرف اپنے عوام کو سہولت دے رہی ہے بلکہ حریف ممالک کے اندر اپنے اہداف حاصل کر کے کامیابیاں سمیٹ رہی ہے لیکن بلوچستان میں انٹرنیٹ بندش کو امن کی ضمانت سمجھ کر عوام پر پابندی مسلط کر دی جاتی ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں عالم خان کاکڑ نے کہا کہ یہ کیسی پالیسی ہے کہ دہشتگردوں کو نشانہ بنانے کے بجائے سہولت عام آدمی سے چھین لی جائے؟ ان پابندیوں نے طلبہ کی تعلیم، نوجوانوں کے روزگار اور تاجروں کے کاروبار کو مفلوج کر کے بلوچستان کو مزید پسماندگی کی طرف دھکیل دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر انٹرنیٹ بندش کو امن کی ضمانت سمجھا جا رہا ہے، تو کیا کل کو ٹرانسپورٹ پر بھی پابندی لگائی جائے گی؟ کیونکہ بسوں اور ٹرینوں سے بھی عوام کو اتار کر قتل کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت امن و امان قائم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، اور یہ پہلے دن سے ہی عوامی نمائندہ حکومت نہیں تھی۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ حکومت فوری طور پر مستعفی ہو، کیونکہ پاکستان میں حالات کی بہتری اور عوام کے اعتماد کی بحالی کی واحد ضمانت شفاف اور آزادانہ انتخابات ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست پابدیوں کے پیچھے چھپنے کے بجائے اپنی ذمہ داری نبھائے، امن و امان کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے، دہشتگردوں کو انجام تک پہنچائے اور عوام کو سہولت، ترقی اور اعتماد واپس دے۔ بلوچستان کے عوام ترقی یافتہ دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا چاہتے ہیں — انہیں مزید پیچھے مت دھکیلا جائے۔

