کوئٹہ، موبائل انٹرنیٹ بندش،شہری،کاروباری طبقہ متاثر

کوئٹہ (این این آئی) مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صوبائی ترجمان کاشف حیدری نے کہا ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں سے بلوچستان میں موبائل انٹرنیٹ 3G اور 4G کی بندش نے شہریوں اور کاروباری طبقے کو براہ راست متاثر کیا ہے۔ عوام مہنگے ہفتہ وار اور ماہانہ پیکجز خریدنے پر مجبور، مگر انٹرنیٹ بندش کی وجہ سے لگائے گئے پیکجز بھی بے سود، جس سے عوام اور تاجروں کا کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ فائبر اور وائی فائی سروسز بعض علاقوں میں دستیاب ہیں، لیکن صوبے کے بیشتر لوگ، خصوصاً دور دراز علاقوں کے رہائشی، صرف موبائل ڈیٹا پر انحصار کرتے ہیں، اور اس کی معطلی نے ان کی زندگیوں کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ اپنے جاری کردہ بیان میں کاشف حیدری نے کہا کہ کاروباری سرگرمیوں میں شدید رکاوٹ پیدا ہو چکی ہے، آن لائن شاپنگ، ڈیجیٹل لین دین، اور ای کامرس سے وابستہ ہزاروں نوجوان بے روزگاری اور معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی میدان میں بھی یہ صورتحال تباہ کن اثر ڈال رہی ہے، طلبہ آن لائن کلاسز، داخلہ فارم جمع کرانے، تحقیقاتی مواد حاصل کرنے، اور مقابلے کے امتحانات کی تیاری جیسے اہم مواقع سے محروم ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آن لائن لائبریریوں اور ڈیجیٹل لرننگ پلیٹ فارمز تک رسائی بھی بری طرح متاثر ہے، جو آنے والی نسل کے تعلیمی معیار پر گہرا منفی اثر ڈال سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ یہ تشویشناک امر ہے کہ موبائل کمپنیاں پیکجز کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں لیکن سروس کی فراہمی میں مکمل ناکام ہیں، جو صارفین کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے۔ تاجر برادری کا موقف واضح ہے کہ ملکی سلامتی کے تقاضے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن عوامی مشکلات کو نظر انداز کرنا کسی طور درست نہیں، کاشف حیدری نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ موبائل انٹرنیٹ سروسز کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور آئندہ اس طرح کے فیصلوں سے پہلے عوام، تاجر برادری اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ صوبے میں معاشی اور سماجی زندگی کا پہیہ رکاوٹ کے بغیر چلتا رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں