جمہوری وطن پارٹی ہمیشہ عوام کے دکھ درد میں شریک رہی،آج بھی روایت برقرار رکھتے ہوئے سیلاب متاثرین کیساتھ کھڑی ہے،جے ڈبلیو پی

کوئٹہ(این این آئی)جمہوری وطن پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں آنے والے حالیہ سیلاب نے بے پناہ تباہی مچائی ہے۔ اس آفتِ ناگہانی نے لاکھوں ایکڑ زرعی زمین کو برباد کر دیا ہے، کھڑی فصلیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں، باغات اور چراگاہیں پانی میں بہہ گئیں، اور ہزاروں خاندانوں کی معاشی زندگی تباہی کا شکار ہو گئی ہے۔ سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس قدرتی آفت کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانیں بھی ضائع ہو گئی ہیں، بے شمار لوگ لقمہ اجل بن گئے اور کئی خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہو گئے۔ یہ سانحہ نہ صرف کسانوں اور مزدوروں کے لیے کڑی آزمائش ہے بلکہ پورے ملک کی معیشت اور سماج کے لیے بھی ایک المناک دھچکا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ جمہوری وطن پارٹی ہمیشہ عوام کے دکھ درد میں شریک رہی ہے اور آج بھی اپنی اس روایت کو برقرار رکھتے ہوئے سیلاب متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔ پارٹی قیادت نے اس مشکل گھڑی میں پوری قوم، خصوصاً اہل خیر اور مخیر حضرات سے اپیل کی ہے کہ انسانیت کے ناتے اور مسلمان بھائی چارے کے جذبے سے سرشار ہو کر خیبرپختونخوا اور پنجاب کے سیلاب زدگان کی دل کھول کر امداد کریں۔یہ بات زور دے کر کہی گئی ہے کہ مصیبت کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کو خوراک، ادویات، صاف پانی، کپڑے، رہائش اور مالی معاونت کی اشد ضرورت ہے۔ ہر فرد کو اپنی استطاعت کے مطابق ان کی مدد کرنی چاہیے تاکہ وہ دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔ جمہوری وطن پارٹی کا مؤقف ہے کہ اجتماعی تعاون ہی وہ راستہ ہے جس سے ہم اپنے بھائیوں اور بہنوں کو مشکلات سے نکال سکتے ہیں۔پارٹی رہنماؤں نے یہ بھی کہا کہ سیلاب صرف متاثرہ علاقوں کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پورے ملک کا سانحہ ہے۔ اگر ہم سب یکجہتی کے ساتھ متاثرین کی مدد کریں تو ان کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکتا ہے۔ جمہوری وطن پارٹی متاثرین کے لیے دعاگو ہے کہ اللہ تعالیٰ اس آفت کو ان کے لیے آزمائش کے بجائے رحمت بنائے، جاں بحق ہونے والوں کی مغفرت فرمائے، لواحقین کو صبر عطا کرے اور ہم سب کو اس مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آخر میں جمہوری وطن پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر امدادی سرگرمیوں کو تیز کیا جائے، انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائی جائے، اور کسانوں کو فصلوں کی تباہی کے ازالے کے لیے خصوصی مالی پیکج دیا جائے تاکہ وہ دوبارہ زرعی سرگرمیاں شروع کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جاں بحق افراد کے اہل خانہ کے لیے بھی خصوصی مالی امدادی پیکج کا اعلان کیا جائے تاکہ ان کے غم اور مشکلات میں کچھ کمی لائی جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں