بھارت کی طرف سے آبی جارحیت قابل مذمت ہے،خالد حسین باٹھ

کوئٹہ(این این آئی)کسان اتحاد پاکستان کے چیئرمین خالد حسین باٹھ نے بھارت کی طرف سے آبی جارحیت کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلاب سے پنجاب میں لاکھوں ایکڑ زرعی زمین سیلابی پانی میں ڈوب گئی ہے جس سے کسانوں اورزمینداروں کو اربوں روپے کے نقصانات کاسامنا ہے،وفاقی اور صوبائی حکومتیں گندم کی فصل کی کاشت سے قبل گندم کا ریٹ مقرر کریں اور بلوچستان کے زمینداروں اورکسانوں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے عملی اقدامات اٹھائیں جائیں بصورت دیگر کسان اتحاد پاکستان 10روز کے بعد بلوچستان بھر میں احتجاج کی کال دیگا۔یہ بات انہوں نے پیر کو کسان اتحاد کی رہنما آریہ حورین اوردیگر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی جس کے بعدکسان اتحاد پاکستان کی جانب سے پریس کلب کے سامنے علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا گیا جہاں حکومتی نمائندوں نے آکر چیئرمین کسان اتحاد خالد حسین باٹھ اوردیگر رہنماوں سے بات چیت کی اورانہیں یقین دلایا کہ کسانوں کو کے مسائل کے حل کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے جس کے بعد علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ ختم کردیا گیا۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خالد حسین باٹھ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کے باعث پنجاب میں لاکھوں ایکڑرقبے پر کاشت فصلیں تباہ ہوگئیں اور 20لاکھ سے زائد لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں بھارت کی آبی جارحیت کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں حکومت نے سولر نہیں دیئے ان علاقوں کے بجلی کنکشن نہ کاٹے جائیں جعفرآباد اور نصیرآباد کے دھند زدہ علاقوں کی بجلی منقطع نہ کیا جائے ہرنائی،کانک اور کچلاک اورگردونواح میں بجلی کے نظام کودرست کیا جائے تاکہ کسانوں کو پریشانی سے نجات مل سکے۔انہوں نے کہا کہ 2022ء کے سیلاب متاثرہ زمینداروں اور کسانوں کو تاحال امداد نہیں ملی انہیں فوری امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں گندم کی کاشت سے پہلے گندم کا ریٹ مقرر کریں اور زمینداروں کو گندم کی کاشت کیلئے بیج کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے زمیندار گونا گوں مسائل سے دوچار ہیں حکومت انکے مسائل حل کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے۔ایک سوال کے جواب میں خالد حسین باٹھ نے کہا کہ ربیع کینال کے ٹیوب کنکشنوں کی بجلی فوری بحال کیا جائے اور زمیداروں کو سولرکی رقوم ادا کی جائیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے 10روز کے اندراندر ہمارے جائز مسائل حل نہیں کئے تو بلوچستان بھر میں احتجاج کریں گے اسکے بعد پوری ملک میں احتجاج کی کال دی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں