ماں کے دودھ میں موجود قدرتی غذائیت نوزائیدہ بچے کی زندگی کی گروتھ کیلئے اہمیت کا حامل ہے،سیمینار سے ڈپٹی ڈی ایچ ا ڈاکٹراویس احمد مگسی ودیگر کا خطاب

بولان(این این آئی)ورلڈ بریسٹ فیڈنگ منتھ 2025 کے موقع پر بلوچستان نیوٹریشن ڈائریکٹوریٹ، محکمہ صحت اور یونیسیف کے تعاون سے ڈھاڈر میں ماں کے دودھ کی اہمیت پر آگاہی سیمینار منعقد ہوا سیمینار کا مقصد ماں کے دودھ کی افادیت اور بچوں کی جسمانی و ذہنی نشوونما میں اس کے مثبت کردار کو اجاگر کرنا تھا مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ بچے کی ابتدائی زندگی،خصوصاً پیدائش کے بعد کے پہلے دو سال، اس کی نشوونما کے لیے نہایت اہم ہوتے ہیں اور ان مراحل میں ماں کا دودھ بچے کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے ماں کا پہلا دودھ بچے کو قوت مدافعت فراہم کرتا ہے جبکہ چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پلانے سے ہی بچہ کئی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ ضلع بھر میں اس آگاہی مہم کو مزید وسعت دی جائے میڈیا، علماء، اساتذہ اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا جو ماں کے دودھ کی افادیت کے پیغام کو عوام تک پہنچا رہے ہیں سیمینار کے شرکاء سے ڈپٹی ڈی ایچ او کچھی ڈاکٹر اویس احمد مگسی،چیف میڈیکل آفیسر ڈی ایچ کیو ڈھاڈر ڈاکٹر سجاد حیدر بلوچ، ڈویڑنل آفیسر ای پی آئی ڈاکٹر جہانگیر سرپرہ،ڈسٹرکٹ نیوٹریشن کوآرڈینیٹر صدام حسین بنگلزئی، مولانا حافظ احمد خان خجک،ڈی ایس او لیڈی ہیلتھ ورکر مس حمیرہ و دیگر نے خطاب کیا آگاہی پروگرام کے بعد ماں کے دودھ کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے آگاہی واک کا بھی کیا گیا سمینار اور واک کو کامیاب اور سودمند قرار دیتے ہوئے شرکاء نے عزم کیا کہ وہ ماں کے دودھ کے حوالے سے آگاہی کو مزید عام کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے تاکہ ایک صحت مند اور باشعور معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں