پنجاب سے گندم،آٹے کی نقل و حرکت پر پابندی،بلوچستان میں 20کلو آٹے کی قیمت میں 800روپے اضافہ

کوئٹہ(این این آئی)پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین بدر الدین کاکڑنے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے گندم اور آٹے کی نقل و حرکت پر پابندی کی وجہ سے بلوچستان میں 20کلو آٹے کی قیمت میں 800روپے اضافہ ہوا ہے اور بلوچستان میں غذائی قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے وفاقی حکومت پنجاب کی جانب سے گندم اورآٹے کی بین الصوبائی پابندیوں کا قومی مفاد میں فوری خاتمہ کرائے تاکہ ملک بھر کے عوام کو انکی غذائی ضروریات کے مطابق آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔یہ بات انہوں نے منگل کوحاجی عبدالواحد بڑیچ،سید ناصر آغا اوردیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔بدرالدین کاکڑ نے کہا کہ گندم کا شمار پاکستان کی اہم غذائی اجناس میں ہوتا ہے صوبہ پنجاب گندم کی پیداوار کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق رواں سال ملک بھر میں 2کروڑ80لاکھ میٹرک ٹن گندم کی پیدوار ہوئی جس کا 77فیصد صوبہ پنجاب سے حاصل ہوا وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ رانا تنویر حسین اس بات کا برملا اعلان کرچکے ہیں کہ درآمدی گندم پر انحصار کرنے کی بجائے گندم کی ملکی کاشت کوپروان چڑھایا جائے گا اس سلسلہ کاشت کاروں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اورانہیں ہرممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ صوبہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا گندم کی کم پیدوار والے صوبوں میں شمار ہوتے ہیں جبکہ سندھ کسی حد تک گندم کی پیداوار کے لحاظ سے خود کفیل ہے صوبہ خیبر پختونخوا کی گندم کی سالانہ کھپت 54لاکھ ٹن ہے جبکہ صوبہ میں گندم کی پیداوار 13سے 14لاکھ ٹن ہے اسی طرہ صوبہ بلوچستان کی سالانہ گندم کی پیداوار10لاکھ ٹن جبکہ ضرورت 20لاکھ ٹن سالانہ ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی غذائی ضروریات کو پوراکرنے کیلئے صوبہ پنجاب سے آنے والی گندم اور آٹے پر انحصار کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ حکومت گندم کی قیمت کا تعین نہیں کریگی گندم اورآٹے کی ملک بھر میں نقل و حمل پر کسی قسم کی پابندی نہیں لگائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب کے بعد ماہ اگست 2025ء میں حکومت پنجاب نے گندم اور آٹے کی بین الصوبائی نقل و حمل پر پابندی عائد کرتے ہوئے صوبہ پنجاب کے خارجی راستوں پر چیک پوسٹیں قائم کردیں یہ چیک پوسٹیں رشوت خوری اور بھتہ خوری کا ذریعہ بن گئی ہیں صوبہ پنجاب سے گندم اور آٹے کی ترسیل دوسرے صوبوں کو جاری ہے روزانہ گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد ان چیک پوسٹوں پر لاکھوں روپے رشوت دینے کے بعد دیگر صوبوں میں آرہی ہیں جس سے بلوچستان میں آٹے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم پنجاب حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آٹے اور گندم کی نقل و حمل پر پابندی کا فوری خاتمہ کیا جائے چیک پوسٹوں کو ہٹایا جائے وفاقی حکومت بھی گندم اورآٹے کی نقل و حمل پر پابندی ختم کروانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں