بارکھان(این این آئی)صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھتیران نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور میاں نواز شریف کے وژن کے مطابق حکومت بلوچستان میں تعلیم کے شعبے کو مضبوط کرنے کے لیے مربوط حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔ اْن کا کہنا تھا کہ صوبائی کابینہ، وزیراعلیٰ اور اراکین نے ایک ٹیم کی طرح کام کرکے بلوچستان کے بند کیے گئے اسکولوں میں سے 90 فیصد اسکول دوبارہ کھلوائے ہیں اور اساتذہ کی بھرتیاں بھی جاری ہیں سردار عبدالرحمن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بارکھان میں گزشتہ ہفتے 95 اساتذہ کو بھرتی کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں بلوچستان کے بچوں کے لیے اسکالرشپ پروگرامز بھی متعارف کرائے ہیں، جس کے نتیجے میں سینکڑوں طلبہ نے مکمل100فصید اسکالرشپ حاصل کرکے منظم طریقے سے تعلیم جاری رکھی ہوئی ہیانہوں نے کہا،ہمارا نعرہ یہی ہے کہ پہاڑوں میں محرومی اور تاریکی کا دور ختم ہو—بہتر یہ ہے کہ ہمارے نوجوان ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم حاصل کرکے زندگی میں آگے بڑھیں۔انہوں نے صادق پبلک اسکول میں کوٹے سے ہٹ کر سو طلبہ کو میرٹ کی بنیاد پر داخلہ دلوانے کا بھی ذکر کیا اور اس کامیابی کا سہرا صوبائی حکومت اور میاں نواز شریف کو جاتا ہیصوبائی وزیر نے اعتراف کیا کہ تعلیمی اقدامات کے اثرات ظاہر ہونے میں وقت درکار ہوگا کیونکہ بلوچستان برسوں سے محرومیوں کا شکار رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر اور بیرونی مفادات اس خطے کی ترقی میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں اور یہ لوگ علاقے کو انتشار کا شکار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ یہاں کی ترقی رک جائے۔ اْنہوں نے ان عناصر کو شدید الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت ان رکاوٹوں کو دور کرکے عوام کو ترقی کے راستے پر گامزن کرے گیآخر میں سردار عبدالرحمن نے کہا کہ اس حکومت کے قیام کے بعد ہزاروں اساتذہ بھرتی کیے گئے ہیں جو آج اسکولوں میں اپنی ڈیوٹیاں انجام دے رہے ہیں۔ ان اقدامات کے ثمرات عنقریب عوام کے سامنے واضح ہوں گے اور یہی لوگ پہاڑوں سے اتر کر قومی دائرے میں واپس شامل ہوں گے۔

