اسٹاک ایکسچینج :ریکارڈ ساز تیزی، 1لاکھ68ہزارکی حدعبور

کراچی( این این آئی)پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو نئے ریکارڈبننے کا سلسلہ جاری رہا۔ 100انڈیکس کیلئے کاروباری ہفتے کے چوتھا دن ریکارڈ ساز رہا۔دوران ٹریڈنگ 100 انڈیکس نے یکے بعد دیگرے دو نفسیاتی حدیں پار کرکے نئے ریکارڈز قائم کردیے ۔
اسٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا آغاز پہلی بار 439 پوائنٹس بڑھ کر 1 لاکھ 66 ہزار 79 پوائنٹس کی زبردست تیزی سے ہوا ،اسکے بعد 100 انڈیکس کی تیز رفتار سے دوران کاروبار1 لاکھ 67 ہزار ، 1 لاکھ 68 ہزار کی سطحیں عبور ہو گئیں۔ماہرین کے مطابق اسٹاک ایکسچینج کی شاندار رفتار کے پیچھے عوامل وزیر اعظم اور آرمی چیف کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کامیاب ملاقات ،سی پیک فیز ٹو کی کامیابی کیلئے چین سے اہم معاہدے ،سعودی عرب سے اربوں ڈالر سرمایہ کاری کی توقعات ، توانائی کے گردشی قرضوں کی کمی کاسرکاری منصوبہ ،اسٹیٹ بینک ذخائر میں مسلسل اضافہ ، آئی ایم ایف سے مثبت مذاکرات ، روپے کی قدر میں استحکام اور بلو چپ کمپنیوں کے مثبت مالیاتی نتائج ہیں۔ دن بھر بینکنگ ، انرجی، آئل اینڈ گیس، اور فارما سیکٹرز کے حصص میں ریل پیل رہی۔کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100انڈیکس 2ہزار 849 پوائنٹس کے اضافے سے پہلی بار 1 لاکھ 68 ہزار 489 پوائنٹس کی ریکارڈ حد پر بند ہوا ،اسی طرح کے ایس ای 30 انڈیکس 986.89 پوائنٹس کے اضافے سے 52023.55پوائنٹس اور اور آل شیئر انڈیکس 1640.61 پوائنٹس بڑھ کر 102646.76 پوائنٹس کی نفسیاتی حد پر بند ہوا۔ سرمائے کا حجم 19 ہزار 349ارب روپے سے بڑھ کر 19 ہزار 655ارب روپے سے تجاوز کرگیا ،سرمائے کا حجم بڑھنے سے سرمایہ کاروں نے ایک ہی روز میں 306 ارب روپے کا بڑا منافع کمالیا۔مجموعی طور پر489 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جس میں سے 239 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ ، 227 میں کمی اور 23 میں استحکام رہا۔ مجموعی طور پر 1 ارب 57 کروڑ 33 لاکھ 81 ہزار 774 روپے مالیت شیئرز کے سودے 70 ارب 19 کروڑ 51لاکھ 68 ہزار روپے میں طے پائے ۔ اسٹاک مارکیٹ کے سابق ڈائریکٹر ظفر موتی نے دنیا نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ رواں ماہ 100 انڈیکس تقریبا 14 ہزار پوائنٹس بڑھ چکا ہے اور یہ سب معاشی و سفارتی محاذ پر کامیابی کا نتیجہ ہے جبکہ آئندہ دنوں میں مزید معاشی خوشخبریاں 100 انڈیکس کو با آسانی نئے ریکارڈ پار کرادیں گے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ سال اکتوبر سے لے کر رواں سال اکتوبر تک سرمایہ کاروں کو 108 فیصد منافع دیا ہے جو کہ عالمی و مقامی سطح پر منفرد ریکارڈ کی حیثیت رکھتا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں