تمپ (نمائندہ رھبر ) یشنل پارٹی تحصیل تمپ کے ترجمان نے گورنمنٹ ڈگری کالج تمپ میں پرنسپل کی بار بار تبدیلی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے تعلیمی نظام کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ ترجمان کے مطابق، گزشتہ دو سال کے دوران تیسری مرتبہ کالج کے پرنسپل کو تبدیل کیا جا رہا ہے، جس سے ادارے میں انتظامی عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے اور طلباء و طالبات کی تعلیم بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
تعلیمی اداروں میں اس قسم کی مسلسل تبدیلیاں نہ صرف تدریسی عمل میں خلل ڈالتی ہیں بلکہ طلباء کی ذہنی یکسوئی اور کارکردگی پر بھی منفی اثر ڈالتی ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ تین دن سے کالج کے طلباء و طالبات احتجاج کر رہے ہیں اور ان کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ موجودہ پرنسپل، جناب داؤد صاحب، کو ان کے عہدے پر برقرار رکھا جائے۔
پرنسپل داؤد صاحب نے محض چار تا پانچ ماہ کی قلیل مدت میں کالج کے تعلیمی ماحول میں نمایاں بہتری لائی ہے، جسے نہ صرف طلباء بلکہ اساتذہ اور والدین نے بھی سراہا ہے۔
نیشنل پارٹی کے ترجمان نے حکومت بلوچستان اور محکمہ تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ کالج انتظامیہ میں سیاسی یا غیر تعلیمی بنیادوں پر کی جانے والی مداخلت کو فوری طور پر بند کیا جائے اور تعلیمی اداروں کو استحکام فراہم کیا جائے تاکہ طلباء کو ایک مستقل، مثبت اور تعلیمی ترقی کے لیے سازگار ماحول میسر آ سکے۔

