کوئٹہ(این این آئی) عدالت عالیہ بلوچستان نے ہزارہ ٹاون اور مضافاتی علاقوں میں پینے کے پانی کی سنگین قلت کے معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واسا، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE) اور کیسکو حکام کو فوری اقدامات کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ شہریوں کو پانی جیسی بنیادی سہولت سے محروم رکھنا سنگین انتظامی غفلت ہے اور اس کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔جسٹس محمد کامران خان ملا خیل کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے قربان علی کی آئینی درخواست پر سماعت کے دوران کہا کہ ہزارہ ٹاون کے مکین شدید مشکلات سے دوچار ہیں جبکہ متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے کے فقدان اور فنڈز کی کمی کے باعث منصوبے تاخیر کا شکار ہیں۔سیکرٹری پی ایچ ای ہاشم غلزئی اور ایم ڈی واسا محمد گل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بعض ریزروائرز اور ٹیوب ویل فنڈز کی کمی کے سبب مکمل نہیں ہو سکے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہزارہ ٹاو ¿ن میں اس وقت تقریباً 700,000 گیلن پانی فراہم کیا جا رہا ہے جو پہلے صرف 260 گھروں کے لیے تھا لیکن اب 3,200 رہائشی یونٹس تک بڑھ چکا ہے۔ مزید کہا گیا کہ ورلڈ بینک کی معاونت سے 40 نئے ٹیوب ویل تجویز کیے گئے ہیں جن کی ای سی این ای سی (ECNEC) سے منظوری ہو چکی ہے۔عدالت کو بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں 20 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے 400 ملین روپے کوئٹہ کے نواحی علاقوں میں 40 نئے ٹیوب ویلوں کے لیے رکھے گئے تھے، مگر فنڈز کی فراہمی میں تاخیر کے باعث بیشتر کام ادھورے ہیں۔ ایگزیکٹو انجینئر واسا وسیم الدین نے بتایا کہ مختلف علاقوں میں اب تک درجنوں ٹیوب ویل مکمل کیے جا چکے ہیں، تاہم کیسکو کی جانب سے تاخیر اور فنڈز کی کمی کے باعث کئی منصوبے سست روی کا شکار ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ کرخسہ کے 9 ٹیوب ویل مکمل طور پر فعال ہیں لیکن ہزارہ ٹاون کے پانی کا مسئلہ فی الحال صرف 40 فیصد حد تک حل ہو سکے گا۔ہزارہ ٹاون کے مکینوں نے عدالت کے روبرو واسا اور پی ایچ ای حکام کے دعووں کی تردید کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ علاقے میں نجی واٹر سپلائی مافیا سرگرم ہے جو واسا کی پائپ لائنوں کے ذریعے غیر قانونی طور پر پانی فروخت کر رہی ہے اور شہریوں سے 30 سے 40 ہزار روپے کنکشن فیس اور 2500 سے 3000 روپے ماہانہ وصول کیے جا رہے ہیں۔عدالت نے اس سنگین صورتحال پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ واسا حکام کی جانب سے نجی ٹھیکیداروں کو پانی کی سپلائی کا اختیار دینا نہ صرف غیر قانونی بلکہ شہریوں کے ساتھ سنگین ناانصافی ہے۔ عدالت نے ایم ڈی واسا کو ہدایت کی کہ تمام غیر قانونی معاہدے فوری طور پر منسوخ کیے جائیں اور واسا کے اپنے وسائل سے پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔مزید برآں عدالت نے سیکرٹری پی ایچ ای کو حکم دیا کہ وہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری (ترقیات) اور سیکرٹری خزانہ کے ساتھ مل کر فنڈز کی فوری فراہمی یقینی بنائیں، اور کیسکو کے سی ای او کے ساتھ میٹنگ بلا کر تمام مکمل شدہ ٹیوب ویلوں کو فوری بجلی کی فراہمی یقینی بنائیں۔ عدالت نے مزید ہدایت کی کہ شہر میں زیر زمین آبی ذخائر اور اوور ہیڈ ٹینکوں کی تعمیر کے لیے جامع منصوبہ تیار کیا جائے، جبکہ واٹر سپلائی اسکیموں کی سولرائزیشن کی تجاویز بھی متعلقہ محکموں کو پیش کی جائیں۔ عدالت نے ہزارہ ٹاون، فیصل ٹاون اور اے ون سٹی میں پانی کی فراہمی کے لیے موجودہ کمیونٹی ٹیوب ویل کمیٹیوں کو فوری تحلیل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ نئی کمیٹیاں کمشنر کوئٹہ ڈویڑن کی نگرانی میں تشکیل دی جائیں گی، جن میں مقامی نمائندگان شامل ہوں گے۔ جسٹس کامران ملا خیل نے ریمارکس دیے کہ“پینے کے پانی کی فراہمی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، اس میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ شہریوں کو نجی مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑنا ناانصافی اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری، سیکرٹری خزانہ، کیسکو، واسا، پی ایچ ای اور دیگر متعلقہ ادارے 6 نومبر 2025 تک اپنی پیش رفت رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔

