کوئٹہ(این این آئی) جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس گل حسن ترین پر مشتمل عدالتِ عالیہ بلوچستان کے دو رکنی بینچ نے ٹریفک اصلاحات، الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ، اور کوئٹہ شہر میں ماحولیاتی بہتری سے متعلق کیس (سی پی نمبر 1951/2022) کی سماعت کے دوران متعدد اہم فیصلے صادر کیے ہیں۔سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ہائی کورٹ کے حکم مورخہ 10 ستمبر 2025 کی روشنی میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ موڈ کے تحت سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ (CBD) کوئٹہ میں الیکٹرک وہیکلز کے آپریشن اور مینٹیننس کے لیے تیسرے اجلاس کے منٹس عدالت میں جمع کرا دیے گئے ہیں۔ اجلاس میں “ڈیزائن، بلڈ، فنانس، آپریٹ اینڈ مینٹین (DBFOM)” ماڈل کے تحت درج ذیل اہم فیصلے کیے گئے۔سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ میں آٹو رکشاو ¿ں کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔ میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ اور ٹریفک پولیس اس پابندی کے مو ¿ثر نفاذ کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی تیار کریں گے۔ الیکٹرک بسوں اور جدید ٹرانسپورٹ منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر، بغیر کسی تاخیر کے مکمل کیا جائے گا۔ ایڈیشنل اے جی اور سیکرٹری ٹرانسپورٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ ان فیصلوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ بورڈ کے سامنے منظوری اور فوری عمل درآمد کے لیے پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ایس ایس پی ٹریفک پولیس بلوچستان کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں عدالت کو بتایا گیا کہ عدالت کے حکم پر 1 جولائی تا 29 ستمبر 2025 کے دوران 41 ناقص اور غیر معیاری بسیں ضبط کی گئیں۔ اسی طرح غیر قانونی رکشوں، ٹینٹڈ شیشوں، فینسی نمبر پلیٹوں اور غلط پارکنگ کے خلاف کارروائی بھی تیز کر دی گئی ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ٹریفک پولیس کوئٹہ کے لیے 188.7 ملین روپے کی رقم گاڑیوں اور گیجٹس کی خریداری کے لیے درکار ہے، جو محکمہ خزانہ میں منظوری کے مرحلے میں ہے۔ عدالت نے سیکرٹری خزانہ کو ہدایت دی کہ ٹریفک پولیس کے مطالبات کا باریک بینی سے جائزہ لے کر مطلوبہ فنڈز بروقت جاری کیے جائیں۔ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA) کی رپورٹ کے مطابق حکومت بلوچستان نے مزید 12 گرین بسیں اور 5 پنک بسیں (خواتین مسافروں کے لیے) متعارف کرانے جا رہی ہے۔ سیکرٹری ٹرانسپورٹ نے عدالت کو بتایا کہ بسوں کی آمد کے بعد انہیں پہلے سے موجود گرین بس نظام کی طرز پر فوری طور پر سڑکوں پر لایا جائے گا۔ سماعت کے دوران نجی ٹرانسپورٹرز کے وکلاء نے عدالت سے درخواست کی کہ پرانی بسوں کو ری کنڈیشننگ اور فٹنس سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر دوبارہ چلانے کی اجازت دی جائے۔ تاہم، ایڈیشنل اے جی اور سیکرٹری ٹرانسپورٹ نے اس تجویز کی سخت مخالفت کرتے ہوئے مو ¿قف اختیار کیا کہ اس اقدام سے ٹریفک اصلاحات کا مقصد زائل ہو جائے گا۔ عدالت نے ہدایت دی کہ کسی بھی پرانی یا ناکارہ بس کو کسی بھی روٹ پر چلنے کی اجازت نہ دی جائے، اور خلاف ورزی کی صورت میں فوری ضبطگی عمل میں لائی جائے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ زرغون سریاب پل کے نیچے “اسمارٹ بس اسٹینڈ” کے قیام کے لیے زمین کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔ قبل ازیں یہ جگہ بعض نجی افراد کے غیر قانونی قبضے میں تھی، جسے عدالت کے حکم پر خالی کرا لیا گیا۔ کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور میٹروپولیٹن کارپوریشن نے اس زمین کی ملکیت کی تصدیق کی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ چونکہ سریاب پھاٹک پر نیا پل تعمیر ہو چکا ہے، اس لیے زرغون سریاب پل کی توسیع کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ لہٰذا، عوامی مفاد میں اس زمین کو بس اسٹینڈ/سمارٹ ٹرمینل کے لیے استعمال کیا جائے۔عدالتِ عالیہ بلوچستان نے حکم دیا کہ ٹرانسپورٹ، ٹریفک اور فنانس کے محکمے باہمی رابطے سے اصلاحاتی منصوبوں پر عمل درآمد تیز کریں۔ ٹریفک پولیس کو درکار فنڈز فوری طور پر جاری کیے جائیں۔ پرانی بسوں کے روٹ پرمٹ منسوخ کیے جائیں، البتہ عدالتی احکامات کی مکمل تعمیل اور تحریری ضمانت کی صورت میں نرمی دی جا سکتی ہے۔الیکٹرک وہیکلز، گرین اور پنک بس منصوبے کو شفافیت اور رفتار کے ساتھ مکمل کیا جائے۔ عدالت نے اس حکم کی کاپی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کے دفتر کو تعمیل کے لیے ارسال کرنے کی ہدایت دی اور کیس کی مزید سماعت 30 اکتوبر 2025 تک ملتوی کر دی۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
تازہ ترین
- آٹے کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ تشویشناک، غریب عوام دو وقت کی روٹی سے محروم ہو رہے ہیں،جے یوآئی
- بلوچستان پولیس کے افسران اور جوان دہشتگردی کیخلاف فرنٹ لائن پر لڑ رہے ہیں،سید جہانگیرشاہ
- غربت اور بیروزگاری صوبے کی معاشی ترقی، سماجی خوشحالی اور نوجوانوں کے مستقبل کیلئے بڑے چیلنجز ہیں،جعفرخان مندوخیل
- بلوچستان کے تین اضلاع میں مجموعی طور پر8 دہشتگردوں کا خاتمہ اور بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی دہشتگردی کے خلاف اہم کامیابیاں ہیں،بابر یوسفزئی
- وزیراعلیٰ بلوچستان کا کوئٹہ، نوشکی اور خضدار میں کارروائیوں کے دوران 8 دہشت گردوں کے خاتمے پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
- کوئٹہ کی باہمت بیٹی نے معذوری کو شکست دے کر خواتین کیلئے مثال قائم کر دی
- ہم پاکستان میں ایسا عادلانہ نظام چاہتے ہیں جس میں ہر شہری کو حقوق، انصاف اور تعلیم کے یکساں مواقع میسر ہوں،مولاناہدایت الرحمن بلوچ
- جمعیت مولانا فضل الرحمن کیخلاف الزام تراشی اور کردار کشی کو سرکاری نمائندوں کی نوکریاں پکی کرنے کا آسان ذریعہ بنا دیا گیا ہے، سینیٹر مولانا عبدالواسع
- سعودی عرب کے علاقے نجران میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، عملے کے 2 ارکان ہلاک
- ایران حوثیوں کو سعودی عرب پر حملوں کے لیے انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے، وال اسٹریٹ جرنل کا دعویٰ

