کوئٹہ(رھبر نیوز ڈیسک) بات ہے 1979 کی سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا ہے اور جنرل ضیاء الحق، امریکہ، سعودی، نے افغان جہاد کی حمایت کی ہے، آئی ایس آئی کو مرکزی کردار دیا گیا کہ وہ مجاہدین کو ٹریننگ دے، اسلحہ اور سرحدی علاقوں میں کیمپ بناکر دے، آپریشن سائیکلون شروع کیا گیا اور لاکھوں ڈالر، ہتھیار مجاہدین کو دیا گیا، پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں مدرسوں کا جال بچھایا گیا اور سخت کٹر سلفی طرز فکر پھیلایا گیا اور یہی مدرسے آگے جاکر طالبان کے مرکز اور بھرتی و ٹریننگ کا ذریعہ بنے۔
ضیا الحق کی موت کے بعد اسٹیبلشمنٹ اور مذہبی جماعتوں کو خوف تھا کہ بینظیر بھٹو اقتدار میں آگئی تو ضیا الحق کی اسلامائزیشن پالیسی ختم ہوگی اور لبرل پالیسیوں کی طرف ملک کو لے جایا جانے لگا، اس دوران اسٹیبلشمنٹ اور مذہبی جماعتوں نے نواز شریف کی پیٹھ ٹھونکنا شروع کی کیوں کہ میاں صاحب دائیں بازو کا متبادل تھا جو مذہبی گروپوں اور اسٹیبلشمنٹ کے قریب تھا، مگر محترمہ شہید نے انتخابات جیت لیے اور اسٹیبلشمنٹ نے انہیں محدود اختیارات کے ساتھ حکومت بننے دی اور میاں صاحب کی پنجاب حکومت کو محترمہ کے مدمقابل رکھا، بالآخر محترمہ کی حکومت کو غیر جمہوری طریقے سے ختم کرکے میاں صاحب کو وزیراعظم بنایا گیا۔
اس وقت پاکستان کی افغان پالیسی کے دو اہم مقاصد تھے پہلا افغانستان میں بھارت مخالف اور پاکستان نواز حکومت لانا دوسرا افغانستان میں اسلامی جہاد کا تسلسل برقرار رکھنا۔ اسی دوران آئی ایس آئی نے نصیراللہ بابر کی مدد سے افغان مجاہدین کے اندر نئیں گروپ بنائے اور موجودہ طالبان ابھر کر سامنے آئے
نواز شریف نے طالبان کے ساتھ نرم رویہ رکھا اور انکے لیے لاجسٹک، سفارتی اور انسانی راستے کھلے رکھے۔
محترمہ بینظیر کے دوسرے دور حکومت میں طالبان پورے افغانستان میں پھیل چکے تھے، پیپلز پارٹی جمہوری، لبرل اور مغربی دنیا کے قریب تھیں جس وجہ سے ان کو ووٹ دینا حرام قرار دیا گیا اور نواز شریف کیوں کہ مذہبی، علماء اور ضیاء الحق کے قریب تھے تو انکو اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت حاصل رہی
ماضی کی مدرسے پالیسی، فنڈنگ اور نظریاتی بیکنگ نے شدت پسند نظریات کو جڑیں فراہم کیں۔
اب فوج ان ہی علاقوں میں آپریشن کرتی ہے، وہ اُن ذیلی نیٹ ورکس کو نشانہ بنا رہی ہے جنہیں ماضی میں ریاست نے خود ہی تسلیم کیا یا استعمال کیا.

