ریکودک مائننگ کمپنی،کوئٹہ چیمبر کے درمیان پائیدار معاشی شراکت داری کے امکانات پر تبادلہ خیال

کوئٹہ +کراچی(این این آئی)بیرک مائننگ کارپوریشن کے زیرِ انتظام چلنے والے ریکودک مائننگ کمپنی (آر ڈی ایم سی)نے کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کیو سی سی آئی)کے ایک وفد کی میزبانی کی۔ اس موقع پر ریکوڈک منصوبے میں تعاون اور مقامی کاروباری اداروں کی شمولیت کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد کی قیادت صدر محمد ایوب اور نائب صدر ناصر خان نے کی، جبکہ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ممتاز کاروباری افراد بھی ان کے ہمراہ تھے۔ریکودک مائننگ کمپنی کے کنٹری منیجر، ضرار جمالی نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے ریکودک منصوبے کے حجم اور امکانات پر تفصیلی بریفنگ دی اور اس کے بلوچستان اور پاکستان کے کان کنی کے شعبے پر متوقع انقلابی اثرات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ آر ڈی ایم سی بلوچستان کے ممکنہ سپلائرز اور وینڈرز کے ساتھ فعال طور پر رابطے میں ہے تاکہ ایک جامع اور مسابقتی سپلائی چین تشکیل دی جا سکے، جہاں مقامی کاروباروں کو شرکت کے مساوی مواقع حاصل ہوں۔کوئٹہ چیمبر کے صدر محمد ایوب نے آر ڈی ایم سی کی مقامی سطح پر رسائی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا: “ہم آج یہاں بلوچستان کی کاروباری برادری کی نمائندگی کے لیے آئے ہیں۔ ہمارا مقصد آر ڈی ایم سی اور چیمبر کے درمیان ایک مضبوط اور باہمی فائدے پر مبنی شراکت داری قائم کرنا ہے، تاکہ بلوچستان میں مشترکہ ترقی اور خوشحالی کو فروغ دیا جا سکے۔ لاہور یا کراچی جیسے بڑے شہروں کے برعکس، بلوچستان کا صنعتی ڈھانچہ محدود ہے، اور ہمیں امید ہے کہ آر ڈی ایم سی کی مقامی خریداری کی پالیسی اس خلا کو پْر کرنے اور مقامی کاروباروں کو بااختیار بنانے میں مدد دے گی۔”نائب صدر ناصر خان نے آر ڈی ایم سی کے سماجی ترقی کے اقدامات کو مثالی قرار دیا اور مقامی برادریوں اور کاروباروں کے ساتھ کمپنی کے جامع اور شمولیتی رویے کی تعریف کی۔وفد کو بریفنگ دیتے ہوئے آر ڈی ایم سی کے سربراہ برائے سپلائی چین اور کمرشل امور، کلیمنز اینگل بریچٹ (Clemens Engelbrecht) نے کہا:”آر ڈی ایم سی کے لیے یہ نہایت اہم ہے کہ وہ مقامی کاروباروں کی ترقی کو ایک پائیدار، ضابطہ جاتی اور کمیونٹی پر مبنی طریقے سے سپورٹ کرے، تاکہ دیرپا اور باہمی مفاد پر مبنی تعلقات کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ عزم پروجیکٹ آپریٹربیرک کے بنیادی اصولوں کا حصہ ہے، جس کا مظاہرہ ہماری مختلف آپریشنز میں کمیونٹی کی ترقی کی کئی مثالوں سے ہوتا ہے۔ جیسے جیسے ریکودک پاکستان کی سب سے بڑی تانبہ اور سونا نکالنے والی کان بنتی جا رہی ہے، ہم ایسے قابلِ اعتماد مقامی وینڈرز اور سپلائرز کے ساتھ شراکت داری کے لیے پرعزم ہیں جو معیار، حفاظت اور دیانت کے ہمارے عالمی اصولوں پر پورا اتریں، اور ساتھ ہی بلوچستان کے کان کنی کے شعبے کی طویل مدتی سپلائی چین کی استعداد کو مضبوط بنائیں۔”ریکودک مائننگ کمپنی، جو حکومتِ بلوچستان اور حکومتِ پاکستان کے ساتھ ایک مشترکہ منصوبے کے تحت کام کر رہی ہے، اس بات کے لیے پْرعزم ہے کہ ریکودک کو ذمہ دارانہ کان کنی اور جامع معاشی ترقی کی ایک مثالی مثال کے طور پر ترقی دے۔ کمپنی شفافیت، اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مؤثر روابط، اور پاکستانی کاروباری اداروں کے ساتھ طویل المدتی شراکت داری کے اصولوں پر کاربند ہے۔ریکودک صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع عالمی معیار کا سونا اور تانبہ نکالنے کا منصوبہ ہے۔ یہ دنیا کے سب سے بڑے غیر ترقی یافتہ تانبے اور سونے منصوبوں میں سے ایک ہے۔ ریکودک کی ملکیت میں 50 فیصد حصہ بیرک کے پاس ہے، 25 فیصد وفاقی حکومت کے تین سرکاری اداروں، جبکہ حکومتِ بلوچستان کے پاس مجموعی طور پر 25 فیصد حصہ ہے — جس میں سے 15 فیصد مکمل مالی اعانت (fully funded) اور 10 فیصد فری کیریڈ بنیاد (free carried basis) پر شامل ہے۔ریکودک سے پہلی پیداوار سال 2028 میں متوقع ہے۔ یہ منصوبہ کم از کم 37 سال تک جاری رہے گا اور ٹرک اینڈ شاول اوپن پٹ ماڈل کے تحت کام کرے گا، جس میں جدید پروسیسنگ سہولیات کے ذریعے اعلیٰ معیار کے تانبیا رو سونے کا کنسنٹریٹ تیار کیا جائے گا۔ منصوبے کی تعمیر دو مراحل میں مکمل ہوگی، جس کی مشترکہ سالانہ پروسیسنگ صلاحیت 90 ملین ٹن تک ہوگی۔ریکودک پاکستان کی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کرے گا اور بلوچستان کی ترقی کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا۔ یہ منصوبہ نہ صرف خطے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا بلکہ علاقائی معیشت کو فروغ دے گا اور سماجی ترقی کے پروگراموں میں سرمایہ کاری کے ذریعے مقامی کمیونٹی کو بھی فائدہ پہنچائے گا۔ بیرک کی پالیسی کے مطابق، مقامی افراد کو ملازمتوں کی فراہمی اور مقامی سپلائرز کو ترجیح دینے سے ضلع چاغی کی آبادی پر مثبت اور دیرپا اثرات مرتب ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں